ذہنی معذور پر نماز روزے اور زکوۃ کا حکم
    تاریخ: 7 جنوری، 2026
    مشاہدات: 8
    حوالہ: 539

    سوال

    ہماری والدہ کی عمر 81 سال ہے، اور وہ جسمانی اور ذہنی طور پر مکمل معذور ہیں ۔ یعنی وہ بستر سے اٹھ نہیں سکتیں ، اور انکا کھانا کا انتظام بھی نالی کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ذہنی طور پر اس طرح کہ نہ کسی کو پہچانتی ہیں ، نہ بولتی نہ کوئی بات سمجھ سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں میرے درج ذیل سوالات ہیں:

    1: ان پر روزے اور نمازیں فرض ہیں ؟ اگر ہیں تو انکےفدیہ کا کیا حکم ہے؟

    2:اگر انکی ملکیت میں کچھ رقم ہے تو کیا اس پر زکوۃ لازم ہوگی۔؟

    سائل:عبداللہ :کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1: اگر معاملہ واقعی ایسا ہے تو اب آپکی والدہ پر روزے اور نمازیں فرض نہیں ہیں ۔لہذا اس حالت میں جتنی نمازیں اور روزے رہ گئے انکا فدیہ نہیں ہے ۔ البتہ اگر انہوں نےحالتِ صحت زندگی میں نمازیں اور روزے چھوڑ دئیےتو انکا فدیہ دیاجاسکتا ہے۔ ایک روزہ اور ایک نماز کا فدیہ ایک صدقہ فطر کی مقدار ہے۔ ایک دن کی چھ نمازوں کا فدیہ اداکیا جاتا ہے پانچ وقتہ فرائض اور وتر۔

    نماز اور روزوں کی فرضیت کے لئے انسان کا صاحبِ عقل ہونا ضروری ہے : جیساکہ حاشیہ طحطاوی مع مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں ہے:يشترط لفرضيتهاثلاثة أشياء الإسلام" لأنه شرط للخطاب بفروع الشريعة "والبلوغ" إذ لا خطاب على صغير "والعقل" لانعدام التكليف دونه "۔۔۔۔۔والصوم كالصلاة كما في صوم القهستاني۔ ترجمہ:نماز کی فرضیت کے لئے تین چیزیں شرط ہیں ۔ 1: اسلام کیونکہ یہ فروعِ دین کے خطاب کی شرط ہے ۔ 2: بالغ ہونا کیونکہ نابالغ بچے سے بھی خطاب نہیں ہوتا۔3: عاقل ہونا کیونکہ عقل کے بغیر انسان مکلف نہیں بن سکتا۔اور روزہ اس معاملہ میں نماز کی طرح ہیں ۔ جیساکہ قہستانی کی کتاب الصوم میں ہے۔( حاشیہ طحطاوی مع مراقی الفلاح شرح نورالایضاح، کتاب الصلوۃ، جلد 01 ص 173، بیروت)

    2: اسی طرح زکوۃ فرض ہونے کے لئے بھی عاقل ہونا شرط ہے۔اگر آپکی والدہ کی اسی حالت میں سال گزر جائے تو ان پر زکوۃ لازم نہیں ہوگی۔ چناچہ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :اَنَّهُ لَا تَجِبُ عَلَيْهِ فِي حَالِ الْعَتَهِ، لِمَا عَلِمْت مِنْ أَنَّ حُكْمَهُ كَالصَّبِيِّ الْعَاقِلِ فَلَا تَلْزَمُهُ لِأَنَّهَا عِبَادَةٌ مَحْضَةٌ كَمَا عَلِمْت إلَّا إذَا لَمْ يَسْتَوْعِبْ الْحَوْلَ لِأَنَّ الْجُنُونَ يَلْغُو مَعَهُ فَالْعَتَهُ بِالْأَوْلَى۔ترجمہ: بیشک بوہرے پر بوہرہ ہونے کی حالت میں زکاۃ واجب نہیں کیوں کہ پیچھے معلوم ہوچکا کہ اسکا حکم وہی ہے جو سمجھدار بچے کا ہے لہذا اس پر زکاۃ لازم نہیں ہو گی کیوں کہ زکاۃ محض ایک عبادت ہے جیسا کہ معلوم ہے ہاں البتہ یہ حالت اگر پورا سال نہ رہی تو زکاۃ واجب ہو گی، کیونکہ جنون کی صورت میں یہ عبادت نہیں رہتی تو بوہرہ ہونے کی صورت میں بدرجہ اولٰی عبادت نہ ہوگی۔ (رد المحتار على الدر المختار جلد2 صفحہ 258 دار الفكر-بيروت)

    مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: بوہرے پر زکاۃ واجب نہیں، جب کہ اسی حالت میں پورا سال گزرے اور اگر کبھی کبھی اُسے افاقہ بھی ہوتا ہے تو واجب ہے۔ (بہار شریعت جلد 1 حصہ 5صفحہ 876 المکتبۃ المدینہ)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:04 شوال المکرم 1441 ھ/27 مئی 2020 ء