وراثتی مکان کرایہ پہ دینا
    تاریخ: 9 جولائی، 2026
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 1609

    سوال

    والدین کے انتقال کو 24سال سے زائد ہوچکے 9بھائی والدین کی وراثت کے 2 مکانات میں مقیم ہیں ,3بہنیں شادی شدہ ہیں جو وراثت سے کسی قسم کا فائدہ حاصل نہیں کررہی ہیں ، اب اسکے علاوہ ایک مکان کے نیچے بڑا گودام موجود ہے بہنیں چاہتی ہیں وراثت کے تقسیم نہ ہونے تک اس کو کرائے پر دے کر اس کا کرایہ تینوں بہنوں میں ہر ماہ برابر کا تقسیم کردیا جائے تاکہ والدین کی وراثت سے وقتی فائدہ ہمیں بھی مل سکے ۔مگر بھائی چاہتے ہیں کرایہ تمام بہن بھائیوں میں برابر کا تقسیم ہو۔برائے کرم تحریری صورت میں رہنمائی فرمائیں

    سائل:کامران چشتی : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    وراثت سے حاصل ہونے والے مال میں ورثاء بطورِ شرکت الملک مالک بنتے ہیں اور مالِ وراثت کے ہر ہر جزء میں ہر وارث شریک ٹھہرتا ہے،لہذا اس گودام میں تمام ورثاء کا حصہ ہے ، مالِ وراثت کو اجارہ /کرائے پر دینے کی صورت میں کرایہ کا حقدار صرف وہی ٹھہرتا ہے جو عقدِ اجارہ کرے اگر تمام ورثاء عقد اجارہ پر راضی ہیں تو وہ تمام اپنے اپنے حصے کے مطابق کرائے کے حقدار ہونگے اور اگر کوئی ایک وارث بلااجازت کرائے پر دے دے تو فقط وہی اس کرائے کا مالک ہوتا ہے تاہم جتنا کرایہ اس کے اپنے حصے کے بدلے میں آتا ہے ، وہ جائز ہے اور دوسرے ورثاء کے حصے کا کرایہ ان کے حق میں ملک خبیث یعنی ناپاک و حرام ہے ، جس کا حکم یہ ہے کہ یا تو فقیرِ شرعی پر بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کر دے یا ورثاء کو دے دیں اور ورثاء کو دینا افضل ہے۔

    لہذا اگر بھائی اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ یہ کرایہ فقط بہنوں میں تقسیم ہو تو اس کرائے کی تقسیم تمام ورثاء کے شرعی حصص کے اعتبار سے کی جائے گی، البتہ چونکہ وہ مکانات بھی موروثی ہیں جن میں بھائی رہائش پذیر ہیں ان میں تینوں بہنوں کا بھی حصہ ہے جو کہ سب بھائیوں کے زیرِ تصرف ہے اسی اعتبار سے اگر بہنیں چاہیں تو ان مکانات میں اپنے حصے کے بقدر کرائے کا تقاضا کرسکتی ہیں، سو اس صورتحال میں بھائیوں کو بھی چاہیے کہ احسان کے بدلے احسان ،رواداری، صلی رحمی اوراخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے برضاو رغبت اس گودام کا مکمل کرایہ بہنوں کے لئے جائز کردیں۔

    مشترکہ ملکیت کی تقسیم کے بارے میں مجلۃ الاحکام میں ہے:تَقْسِيمُ حَاصِلَاتِ الْأَمْوَالِ الْمُشْتَرَكَةِ فِي شَرِكَةِ الْمِلْكِ بَيْنَ أَصْحَابِهِمْ بِنِسْبَةِ حِصَصِهِمْ۔ترجمہ:شرکۃ الملک میں مال مشترک کی تقسیم تمام لوگوں کے حصوں کی نسبت سے ہوگی۔( مجلۃ الاحکام الفصل الثانی فی بیان کیفیۃ التصرف ج1ص206 مادہ نمبر 1073 )

    درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما۔ترجمہ: جب دو شریکوں کے حصے مساوی ہوں یعنی مشترکہ نصف نصف ہو تو برابر برابر تقسیم کی جائے گی۔اور جب متساوی نہ ہو بایں طور کہ ان میں سے ایک کا ثلث اور دوسرے کے دو ثلث ہوں تو حاصلات اسی نسبت سے تقسیم کیے جائیں گے کیونکہ ان اموال کے نفقات انکے حصوں کے نسبت سے ہیں۔ (ایضاً مادہ 1077)

    مالِ مغصوبہ سے حاصل شدہ نفع اصل مالک کا نہیں ہوتا ، بلکہ غاصب کا ہی ہوتا ہے ۔ جیسا کہ رد المحتار میں ہے :” أن الغلة للغاصب عندنا؛ لأن المنافع لا تتقوم إلا بالعقد والعاقد هو الغاصب فكان هو أولى ببدلها، ويؤمر أن يتصدق بها لاستفادتها ببدل خبيث وهو التصرف في مال الغير“ ترجمہ:( غصب کی ہوئی چیز سے حاصل شدہ ) نفع ہمارے نزدیک غاصب کا ہی ہوگا ، کیونکہ منافع عقد کے ساتھ ہی قائم ہوتے ہیں اور عقد کرنے والا ( یہاں ) وہی غاصب ہے ، تو اس کے بدل کا زیادہ حقدار بھی وہی ہوگا ، ( ہاں ) اسے وہ نفع صدقہ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے ، اس لیے کہ وہ اس کو خبیث بدل کے ذریعے حاصل ہوا ہے اور وہ ( خبیث بدل ) غیر کے مال میں تصرف کرنا ہے۔(ردالحتار علی الدرالمختار، کتاب الغصب ج9ص317)

    اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں : عمارت بعد انتقال خالد زید اور دیگر ورثاء میں مشترکہ ٹھہرے گی ، مگر آمدنی جو زید وسلیمہ نے حاصل کی باقی شرکاء اس کے واپس لینے کا دعویٰ نہیں کرسکتے کہ عقد اجارہ میں جو شخص کسی شیء کو کرایہ پر چلاتاہے ، اجرت کا مالک وہی ہوتا ہے اگرچہ وہ شے ملک غیر ہی ہو، ہاں اس پر دو باتوں میں سے ایک واجب ہوتی ہے یا تو ملک غیر کی اُجرت اس مالک کو واپس دے اور یہی بہتر ہے یا محتاجوں پر تصدق کردے کہ اس کے حق میں وہ ملک خبیث ہے۔(فتاوی رضویہ،ج19،ص259، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: ربیع الثانی 1446ھ/ 23 اکتوبر 2024 ء