سوال
ہم تین بہن بھائی ہیں ،ایک بھائی آرمی میں جاب کرتا تھا ،دو چھوٹے بھائی زمین اور دوسرے کام سنبھالتے تھے ،تینو ں بھائیوں کی محنت سے یہ گھر چل رہا تھاپھر بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی کو دبئی کا ویزا لے کر دبئی بھجوادیااور دبئی والے بھائی نے اپنے سے چھوٹے بھائی کو دو سال کے عرصے میں دبئی بلالیا،چار ،پانچ سال تینوں بھائی گھر کا خرچہ چلاتے رہے اس کے بعد بڑے بھائی آرمی سے ریٹائرڈ ہوئےانہیں ریٹائرڈ ہونے کے کچھ پیسے ملے اور کچھ دبئی والے بھائیوں نے دیئے جو تقریبا 40سے 50لاکھ تھے،تو بڑے بھائی نے پراپرٹی کاکام شروع کردیا دس سال کے عرصے میں دبئی والے بھائیوں نے 20سے 25 کروڑ بڑے بھائی کو بھیجے اس عرصے میں بڑے بھائی نے پراپرٹی خریدی اور کئی پلاٹ خرید کر ان کو تعمیر کروکر انکو کرائے پر دیا آج اس تمام پراپرٹی کی مالکیت تقریبا 60کروڑ ہےجوکہ ہم تینوں بھائیوں میں برابر تقسیم ہوچکی ہے،اب میرا سوال یہ ہے کہ چھوٹے بھائی کا جو دوبئی میں کاروبار ہے اس میں بڑے بھائی کا نہ تو پیسہ شامل ہے نہ محنت ،تو کیا اس کاروبار میں بڑے بھائی کا حصہ بنتا ہے۔نیز بڑے بھائی نے دبئی کا ویزا لیکر بھجوا یاسکے پیسوں کا کیا حکم ہوگا۔؟
سائل: بمعرفت مفتی صفدر سعیدی :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مستفسرہ میں چونکہ بڑے بھائی کا نہ پیسہ شامل نہ محنت وغیرہ لہذا اس کاروبار میں اسکا حصہ نہیں بنتا،کہ یہاں شرکت کا تحقق نہیں ہے۔رہا یہ مسئلہ کہ انہوں نے بھائی کو دبئی جانے کے لئے پیسے دیئے ظاہر یہی ہے کہ یہ انکی جانب سے تبرع ہے جیساکہ ہمارے معاشرے میں بھائی بھائی کو بطورِ تعاون پیسے وغیرہ دیتا ہے ، بھائی اگر اسکے خلاف کا دعوٰی کرے تو اس پر لازم کی اپنے دعوٰی کو ثابت کرےبصورت دیگراسکا قول خلافِ ظاہر ہونے کے سبب تسلیم نہ کیا جائے گا۔
امام اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن نے اسی سے مشابہ سوال پر جامع الفصولین و دیگر کتب سے استدلال کرتے ہوئے جواب میں فرمایا:"ان مسائل میں اصل کلی یہ ہے کہ جوشخص اپنے مال سے کسی کو کچھ دے اگر دیتے وقت تصریح ہو کہ یہ دینا فلاں وجہ پر ہے مثلًا ہبہ یا قرض یا ادائی دین ہے جب تو آپ ہی وہی وجہ متعین ہوگی اور اگر یہ کچھ ظاہر نہ کیا جائے تو دینے والے کا قول معتبر ہے کہ وہ اپنی نیت سے خوب آگاہ ہے اگر اپنی نافع نیت بتائے گا مثلًا کہے میں نے قرضًا دیا قرض میں دیا ہبہ مقصود نہ تھا تو اس کا قو ل قسم کے ساتھ مان لیا جائے گا اور جو اس کے خلاف کا مدعی ہو وہ محتاج اقامت بینہ ہوگا مگر جبکہ قرائن ودلائل عرف سے اس کا یہ قول خلاف ظاہر ہو تو نہ مانیں گے اور اسی کو اقامتِ بینہ کی تکلیف دیں گے بکثرت مسائل اسی اصل پر متفرع ہیں"۔
جامع الفصولین فصل رابع و ثلثین سے نقل کرتے ہیں:"صدق الدافع بیمینه لأنه مملك"۔ترجمہ:" دینے والے کی بات قسم کے ساتھ مصدقہ قرار پائے گی کیونکہ وہ دینے والا ہے"۔
وہیں ہے:"دفع الٰی ابنه مالا فاراد اخذہ صدق انہ دفعہ قرضا لانه مملک"۔ ترجمہ:"والد نے بیٹے کو کچھ مال دیا اب واپس لینا چاہتا ہے تو اسکی تصدیق کی جائیگی کہ اسنے بطورِ قرض دیا تھا"۔
وہیں ہے:"یصدق المملك لانه اعرف فقول العالم اولٰی بان یقبل من قول الجاہل الافیما یکذب عرفا"۔ترجمہ:"مالک بنانے والے کی تصدیق کی جائے گی کیونکہ وہ بہتر جانتا ہے تو جاننے والے کی بات کو ماننا اولٰی ہے بجائے اس کے کہ جاہل کی بات مانی جائے الا یہ کہ عرف اسکی تکذیب کرے"۔
مابعد کثیر دلائل مزید فرماتے ہیں:"پس صورت مستفسرہ میں اگر صراحۃً ثابت ہے کہ زید و عمرو و بکر نے یہ روپیہ اپنے باپ کو قرضًا دیا تھا تو ضرور واپس ہوگا، یاصراحۃً ثابت ہوکہ بطور حسن سلوك و خدمت پدر ہبۃً دیا تھا تو ہر گز واپس نہیں ہوسکتا"لتحقق موانع عدیدۃ للرجوع "(ترجمہ:رجوع کرنے میں متعدد موانع پائے جانے کی وجہ سے(یا ان کے یہاں معمول قدیم رہا ہوکہ جب کبھی ایسے صرف کی باپ کو ضرورت ہوئی ہے بیٹے اس کے شریک ہوئے ہیں اور وہ شرکت ہمیشہ بے قصد واپسی رہی ہے تو قول بقیہ ورثہ کا معتبر ہوگا کہ یہ دینا بھی اسی طرح تھا قرض نہ تھا دینے والے اگر مدعی ہوں کہ اس بارہم نے قرضًا دیا تھا تو ازانجا کہ ان کا وہ عرف باہمی اس دعوے کے خلاف ہے بارِ ثبوت ان کے ذمہ ہے"۔(فتاوٰی رضویہ، جلد 16، صفحہ 96، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: ذوالحجہ 1446ھ/ 16 جون 2025 ء