سوال
میرے شوہر محمد سعید کا 30 مئی 2025 کو انتقال ہوا، جبکہ شوہر کے والد (محمد احمد)کا انتقال 10 سال پہلے ہوا، شوہر کے والد کی لیاقت آباد میں 3 دوکانیں اور گھر موجودہےجس پر دس سال سے شوہر کے بھائی قابض ہیں، شوہر زندگی میں بھی حصہ مانگتے رہے لیکن انہوں نے نہیں دیا حتی کہ شوہر کا انتقال ہوگیا، شوہر کے والد کے ورثاء میں بیوی(نادرہ) 5 بیٹے (اکرم ، سعید، یونس، سہیل، عبدالوہاب) اور چار بیٹیاں (راحیلہ، رانا، رضوانہ، الماس)ہیں۔ اور سعید کےورثاء میں ، ایک میں(فوزیہ)اور ایک لے پالک بیٹی ہے۔ ہمیں بتائیں کہ شوہر کا حصہ ہوگا یا نہیں ؟ اگر ہوگا تو کتنا ہمیں اس سے کتنا ملے گا؟ نیز لے پالک بیٹی کا حصہ ہوگا یا نہیں وہ شروع سے اب تک ہمارے پاس ہے۔
سائلہ:فوزیہ :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیساکہ ذکر کیا گیا تو حکم شرع یہ ہے کہ بے شک محمد احمد کی وراثت سے سائلہ کے شوہر (سعید) کا حصہ وراثت ہوگا، بعد ازاں وہی حصہ سعید کے ورثاء یعنی اسکی بیوی ، والدہ اور بہن بھائیوں کے مابین شریعت کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق تقسیم ہوگا(جسکی تفصیل نیچے آرہی ہے۔)۔
البتہ لے پالک لڑکی کو وراثت سے کچھ حصہ نہیں ملے گا ،کیونکہ منہ بولی یا لے پالک اولاد، شریعت میں نسبی اولاد کی طرح نہیں ہوتی ، اسکے احکام نسبی اولاد کے احکام سے جدا ہوتے ہیں ،لے پالک اولاد نسبی و سگی اولاد کی طرح وراثت سے حصہ نہیں پاتی کیونکہ وراثت شریعت میں صرف تین شرعی اسباب سے ثابت ہوتی ہے، 1: نسب کا تعلق جیسے ماں باپ، بیٹا، بیٹی، بہن، بھائی وغیرہ۔2:نکاح یعنی ازدواجی تعلق جیسے شوہر اور بیوی۔ 3: ولاء یعنی غلام کو آزاد کرنے والے اور آزاد ہونے والے کا تعلق۔جبکہ لے پالک اولاد میں عموماً ان تین اسباب میں سے کوئی سبب موجود نہیں ہوتا۔ہاں البتہ اگر مرنے والا اپنی لے پالک اولاد کے لیے کوئی وصیت کر جائے تو کل مال کے ایک تہائی حصہ سے وصیت پوری کی جائے گی۔
ہر وارث کے حصے کی تقسیم درج ذیل ہے:
کل حصے: 1152
نادرہ :168، اکرم:158، یونس:158، سہیل:158، عبدالوہاب:158، راحیلہ:79، رانا:79، رضوانہ:79، الماس:79، فوزیہ:36
لے پالک کے حکم سے متعلق تفسیر مظہری میں ہے:فلا يثبت بالتبني شىء من احكام النبوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك ترجمہ:منہ بولا بنانے سے نسبی اولاد والے احکام ثابت نہیں ہونگے مثلا وراثت،نکاح وغیرہ کا حکم۔(تفسیر مظہری ، جلد 7 ص 234)
المبسوط للسرخسی میں ہے:الْأَسْبَابُ الَّتِي بِهَا يُتَوَارَثُ ثَلَاثَةٌ الرَّحِمُ وَالنِّكَاحُ وَالْوَلَاءُ۔ترجمہ: وہ اسباب جن کی وجہ سے وراثت حاصل ہوتی ہے تین ہیں ۔1:رشتہ داری(ماں باپ،بہن بھائی، بیٹا،بیٹی،)2: نکاح (شوہر ، بیوی) اور ولاء (یعنی مرنے والے کے معتق)۔ (المبسوط للسرخسی، کتاب الفرائض جلد 29 ص 138،الشاملہ)
وراثت کی تقسیم اللہ کریم کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق ہے: بیویوں کےحصے بارے میں ارشاد ہے ۔قال اللہ تعالٰی :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔(النساء : آیت نمبر 11)
ماں،باپ کے حصےکے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالی: وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ۔ترجمہ کنز الایمان :اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا(حصہ ہے) اگر میت کے اولاد ہو۔
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)
فائدہ :جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جائیداد کل قیمت لگواکر اس کو مبلغ یعنی 1152 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے، اسے اپنے پاس محفوظ کرلیں پھر جو محفوظ اعداد ہیں اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:29 ربیع الثانی 1447ھ/ 23 اکتوبر 2025 ء