وراثت کا مسئلہ حوالہ نمبر1240
    تاریخ: 9 جولائی، 2026
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 1604

    سوال

    ہمارے دادا کی وراثت ہے جو کہ سوتیلی دادی کے نام ہے، دادا کی دو بیویاں تھی، پہلی ہماری دادی جگنہ بی بی ،انکا انتقال ہوا توانہوں نے دوسری شادی ہاجرہ بی بی سے کی ۔ انکاانتقال 1990ء میں ہوا۔ ان سے دادا کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ پہلی بیوی سے ایک بیٹا(سعید)میرے والداور ایک بیٹی (فاطمہ)ہیں۔ پھر 1992ء میں انکی بیٹی یعنی پھپو کا انتقال دادا کی زندگی میں ہی ہوگیا اور وہ غیر شادی شدہ تھی، اسکے بعد 2005ء میں ہمارے والد سعید کا انتقال ہوا ، انکی ایک بیوی (زرینہ بیگم) تین بیٹے (اسد، شاہد، احمد)اور پانچ بیٹیاں(شمع، سمیہ، شمیمہ، شبانہ، فریدہ) ہیں۔ پھر 2011 ءمیں دادا کاانتقال ہوا اب سوال یہ ہے کہ اس وراثت میں کس کس کا حق ہے اور کتنا؟

    سائل:اسد سعید : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    گھر پلاٹ وغیرہ کسی کے نام کرنا حکمِ ھبہ رکھتا ہے اور ھبہ میں قبضہ شرط ہے اگر دادا نے یہ مکان محض کاغذات میں بیوی کے نام کیا اور قبضہ نہ دیا تو یہ مکان دادا کی ملکیت ہے ، دادی کا اس میں کوئی شرعی حق نہیں ۔اور بالخصوص جب داد خود بھی اس میں رہتا رہا اور اپنا مال و اسباب بھی اسی میں رکھا اور کبھی تخلیہ کرکے زوجہ کو قبضہ نہ دیا حتٰی کہ زوجہ کا انتقال ہوگیا تو یہ ھبہ از سر باطل ہوگیا۔اب یہ مکان خاص ملکِ شوہر ہے بعد وفات شوہر اسکے ورثاء میں بحسبِ فرائض ورثاء منقسم ہوگا۔

    تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ جن افراد کا انتقال دادا کی زندگی میں ہوا ان میں سے کوئی بھی شرعاً دادا کی وراثت کا حقدار نہ ہوگا، لہذا دونوں بیویاں ، بیٹا اور بیٹی دادا کی وراثت سے کچھ حصہ نہ پائیں گے جبکہ ساری وراثت پوتے اور پوتیوں کے درمیان تقسیم ہوگی۔ جسکی تفصیل یہ ہے کہ کل وراثت کے 11 حصے ہونگے جس میں سے ہر پوتے کو 2 حصے اور ہر پوتی کو ایک حصہ ملے گا۔

    الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ومن مات قبل ذلك لم يرث منه :ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ) تھے اور جو ا س کی موت سے پہلے مرگئے وہ اس کے وارث نہیں ہونگے (لہذا ان میں وراثت تقسیم نہیں ہوگی)۔( الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی کتاب المفقود جلد 2ص 424)

    یوں ہی البنایہ شرح الہدایہ میں اسی کے تحت ہے:وقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت)أي وقت الحكم بالموت۔ترجمہ:اور اسکا مال اسکے ان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جو اس(مورث)کی موت کے وقت موجود ہوں۔ (البنایہ شرح الہدایہ جلد 7ص367)

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ۔ ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:13ربیع الاول1446ھ/ 18ستمبر2024 ء