سوال
حفظ کے دوران قاری صاحب بچوں کا سبق، سبقی، منزل وغیرہ سنتے ہیں اس دوران آیات سجدہ بھی آجاتی ہیں تو کیا سننے والے قاری صاحب پر سجدہ تلاوت لازم ہوگا یا نہیں؟ اگر ہوگا تو ایک ہی جگہ متعدد بچوں سے متعددبار سننے سے کتنے سجدے لازم ہونگے ؟
سائل:قاری صدیق : جوہڑ جمالی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر تلاوت کرنے والا بچہ ممیز سجھدار ہے تو اسکی تلاوت سے ضرور سجدہ لازم ہوگا ، اور اگر وہ غیرممیز ناسمجھ ہے تو اس کی تلاوت سے سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوگا۔
ایک سے زائد بارآیات سجدہ سننے کی صورت میں سجدہ تلاوت واجب ہونے یا نہ ہونے سے متعلق تفصیل درج ذیل ہے:
1: ایک ہی آیت کئی مرتبہ سنی اور ایک ہی مجلس میں سنی تو ایک ہی سجدہ واجب ہو گا۔
2: اگر ایک ہی آیتِ سجدہ کئی مرتبہ سنی، لیکن مجلس مختلف ہوتی رہی تو ہر مرتبہ کے لیے الگ سجدہ کرنا واجب ہو گا۔
3: اگر ایک ہی آیت کئی مرتبہ سنی، لیکن پڑھنے والا ہر مرتبہ مختلف شخص تھا تو ہر مرتبہ کے لیے الگ سجدہ کرنا واجب ہو گا۔
4: اگر مختلف آیاتِ سجدہ سنیں تو ہر آیت کے لیے الگ سجدہ کرنا واجب ہو گا، خواہ پڑھنے والا ایک ہو یا مختلف۔
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: وتجب (على من كان أهلاً لوجوب الصلاة أداء) كالأصم إذا تلا، (أو قضاءً) كالجنب والسكران والنائم، (فلا تجب على كافر وصبي ومجنون وحائض ونفساء قرءوا أو سمعوا)؛ لأنهم ليسوا أهلاً لها، (وتجب بتلاوتهم) يعني المذكورين (خلا المجنون المطبق) فلا تجب بتلاوته؛ لعدم أهليته۔ ترجمہ: جو شخص اداءً یا قضاءً وجوب نماز کا اہل ہے جیساکہ بہرا جب تلاوت کرے یا جنبی، نشئی اور نائم۔ لہذا کافر، ناسمجھ بچے، مجنون،حائضہ، نافسہ پر واجب نہیں خواہ یہ پڑھیں یا سنیں کیونکہ یہ نماز کے اہل نہیں ہیں۔ اور ان مذکورین کی تلاوت سے واجب ہوگاسوائے مجنون مطبق کے کہ اسکی تلاوت سے سجدہ واجب نہ ہوگا کیونکہ اس میں اہلیت نہیں ہے۔
اس کے تحت علامہ شامی رقمطراز ہیں:قوله: وتجب بتلاوتهم) أي وتجب على من سمعهم بسبب تلاوتهم (قوله: يعني المذكورين) أي الأصم والنفساء وما بينهما (قوله: خلا المجنون) هذا ما مشى عليه في البحر عن البدائع. قال في الفتح: لكن ذكر شيخ الإسلام أنه لايجب بالسماع من مجنون أو نائم أو طير؛ لأن السبب سماع تلاوة صحيحة، وصحتها بالتمييز ولم يوجد، وهذا التعليل يفيد التفصيل في الصبي، فليكن هو المعتبر إن كان مميزاً وجب بالسماع منه وإلا فلا واستحسنه في الحلية۔ ترجمہ:اور انکی تلاوت کی وجہ سے واجب ہوگا یعنی اس شخص پر جو انکی تلاوت سنے انکی تلاوت کی وجہ سے ۔ مذکورین یعنی بہرا نافسہ اور جو انکے درمیان لوگ ہیں سوائے مجنون کے یہ وہی ہے جس پر بحر میں بدائع سے چلے اور فتح القدیر میں فرمایا لیکن شیخ الاسلام نے ذکر فرمایاکہ مجنون، نائم یا پرندے سے سننے سے سجدہ واجب نہ ہوگا کیونکہ سجدہ کا سبب تلاوت صحیحہ کا سماع ہے اور اسکی صحت تو تمییز سے ہے جوکہ یہاں موجود نہیں، یہ تعلیل ناسمجھ بچے کے بارے میں تفصیل کا افادہ کرتی ہے تو چاہیے کہ یہی معتبر ہو کہ اگر بچہ ممیز ہو تو اس سے سننے سے واجب ہوگا ورنہ نہ ہوگا اسی کو حلیہ میں مستحسن قرار دیا۔( ردالمحتار علی الدرالمختارشرح تنویر الابصار ، ج 2 ص 107، 108)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 28 جمادی الاول 1445ھ/ 14 ستمبر 2023 ء