سوال
میرا نام ہندہ ہے اور میری شادی 2006 میں زیدسے ہوئی تھی چار بچے ہیں جن میں سے ایک بیٹی اور تین بیٹے ہیں، گھر میں چھوٹے موٹے جھگڑے ہوتے رہتے تھے ،پھر ہم نارمل ہو جاتے تھے ،آج سے تقریبا دو تین سال پہلے مجھے میرے شوہر نے غصے میں تین سے چار مرتبہ بولا :تم میری طرف سے آزاد ہو، پھر کچھ عرصے بعد پھر جھگڑا ہوا اور اس نے بولا کہ :تم میری طرف سے فارغ ہو، تین سے چار باربولا،مجھے معلوم نہیں تھا کہ ان الفاظ کے بولنے سے طلاق ہو جاتی ہے، ابھی کچھ دن پہلے میں نے ایک بیان سنا کہ جس میں مفتی صاحب بتا رہے تھے کہ کن الفاظ سے طلاق ہو جاتی ہے، اس میں جو مجھے شوہر نے بولے تھے وہ الفاظ بھی شامل تھے ،تو مجھے وہاں سے معلوم ہو گیا ، پھربیٹی کے رشتے کی بات آئی، تو میرے شوہر رضامند نہیں تھے لیکن بیٹی اس رشتے کے لیے رضامند تھی لہذا ان کو منایا گیا تو میرے شوہر مان گئے ،لیکن مجھ سے بات چیت کرنا بند کر دیا اور بچوں کو بار بار کہتے ہیں ، بیٹی کا نکاح کر کے دوسرے دن میں اس کو طلاق دے دوں گا اور میری بھابھی کو بھی بولا کہ میں اس کو چھوڑ دوں گا، تین دسمبر کو بیٹی کا نکاح کیا چار دسمبر کو تحریری طلاق نامہ منوایا میرے بھابھی کو دیا جو بڑی باجی کے گھر میں تھی پہلے میرے شوہر کو فون کر کے وہاں بلایا گیا اس کے کافی دیر بعد مجھے فون کیا کہ آپ بھی ا جاؤ میں گئی تو طلاق نامہ دیا ،جسکو میں نے سائیڈ پر رکھ دیا ،پڑھا نہیں،پھر ہماری صلح کرائی گئی ،اور ہم ساتھ رہنے لگے ہیں۔آپ ہماری رہنمائی فرمائیں۔
نوٹ: سائلہ سے تمام مسئلہ کی تصدیق کی گئی لیکن سائلہ کے شوہر سے اطمنان بخش جواب نہ ملنے کی بناء پر مذکور سوال کے مطابق جواب لکھا گیا ہے۔
سائل:ٖہندہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مسئولہ کے مطابق، آپ کو تین طلاق واقع ہوچکی ہیں۔ اس لئےنکاح ختم ہوچکا اور اب آپ دونوں ایک دوسرے کیلئے اجنبی ہیں ۔ جس وقت آپ کو شوہر نے پہلی مرتبہ یہ الفاظ بولے:تم میری طرف سے آزاد ہو ، اسی وقت سے عدّت(عدت: اگر حیض والی ہے تو تین حیض ،اگر حمل ہوتو وضع حمل، اگر شوہر فوت ہوجائے تو چارمہینے دس دن ،اگر 9 برس سے کم عمر ہے کہ حیض نہیں آتا یا بڑی عمر ہے کہ حیض آنا بند ہوگیا تو تین مہینے عدت ہے) کا آغاز ہوگیا۔
تفصیل حکم:
"تم میری طرف سے آزاد ہو" یا تم میری طرف سے فارغ ہو۔ یہ الفاظ فی زمانہ طلاق کیلئے صریح بن چکے ہیں،اس لئے ان سے تین صریح طلاق صریح واقع ہوچکی ۔
"تم میری طرف سے آزاد ہو" اور "تم آزاد ہو" دونوں میں فرق:
تم میری طرف سے آزاد ہو ،یا تم میری طرف سے فارغ ہو،ان جیسے الفاظ جن کو شوہر اپنی طرف نسبت کرکے بول دے،اس یہ الفاظ صریح بن جاتے ہیں، لیکن اگر اس طرح کے الفاظ کو مطلق کرکے بولا جائے تو اس صورت میں یہ کنایہ شمار ہوتے ہیں ۔
کیونکہ صرف ان الفاظ سے طلاق کے معنی متبادر الی الفہم نہیں ہوتے بلکہ طلاق کے معنی کے ساتھ ساتھ دوسرے معنی کا احتمال بھی ذہن میں آتا ہے،مثلاً "تم کام سے آزادہو " تم خیر سےآزادہو" ، لہٰذا یہ الفاظ کنایہ کی دوسری قسم" جس میں جواب اور سب وشتم کااحتمال ہو تاہے" کے قبیل سے ہیں۔ اور مذاکرہ طلاق کے علاوہ قضاءً بھی طلاق کے وقوع کے لیے نیت ضروری ہے اوران الفاظ سے اگرکوئی طلاق کی نیت کرے گاتو طلاق بائن واقع ہوگی۔
جبکہ"تم میری طرف سے آزاد ہو " کے الفاظ میں کوئی دوسرا معنی نہیں ہے اور صرف " تم میرےنکاح سے آزاد ہو"، کاہی معنی ہے۔لہذا یہ فی زمانہ طلاق کیلئے صریح بن چکی ہیں ۔
چونکہ شوہر پہلے ہی صریح الفاظ کے ذریعے طلاق دے چکا تھا، اس لیے انہی الفاظ سے طلاق واقع ہو چکی تھی۔ بعد ازاں شوہر نے دوبارہ یہ الفاظ کہے: "تم میری طرف سے فارغ ہو"، لیکن چونکہ اس سے قبل شوہر تین طلاقیں دے چکا تھا، جس کے نتیجے میں بیوی محلِّ طلاق نہیں رہی تھی، اس لیے اس کے بعد کہے گئے ان الفاظ کی شرعاً کوئی حیثیت نہیں۔
دلائل و جزئیات:
طلاق کے بعد عورت پہلے شوہر کیلئے حلال نہیں ہوتی، جب تک کسی دوسرے سے درست نکاح کر کے طلاق نہ لے۔اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ-فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِؕ-وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ(230) ترجمہ: پھر اگر شوہر بیوی کو (تیسری) طلاق دیدے تو اب وہ عورت اس کیلئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے، پھر وہ دوسرا شوہراگر اسے طلاق دیدے تو ان دونوں پر ایک دوسرے کی طرف لوٹ آنے میں کچھ گناہ نہیں اگر وہ یہ سمجھیں کہ (اب) اللہ کی حدوں کو قائم رکھ لیں گے اور یہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں وہ دانش مندوں کے لئے بیان کرتا ہے(البقرہ:230)
کنایہ کے الفاظ سے حالت غصہ میں جب طلاق دی جائے اس کے بابت شرح الوقایہ میں حکم مذکور ہے :ونحو: اعتدي، واستبرئي رَحِمَك، أنت واحدة، أنت حرَّة، اختاري، أمرُك بيدك، سرحتُك، فارقتُك، لا يحتملُ الرَّدَّ والسَّبّ.ففي حالةِ الرِّضا يتوقَّفُ الكلُّ على النِّيَّة، وفي الغضبِ الأولان، وفي مذاكرةِ الطَّلاق الأَوَّلُ فقط والمرادُ بحالة الرِّضا: أن لا يكونَ حالة غضب، ولا مذاكرةِ الطَّلاق، فحينئذٍ يتوقف الأقسامُ الثَّلاثة على النِيَّة. ترجمہ:اور اسی طرح کے الفاظ جیسے:اعتدی" (عدت گزارو)،استبرئي رحمك" (اپنے رحم کو پاک کرو)،أنتِ واحدة" (تم ایک ہو)،أنتِ حرّة" (تم آزاد ہو)،اختاري" (اختیار تمہیں ہے)،أمرُك بيدِك" (تمہارا معاملہ تمہارے ہاتھ میں ہے)،سرحتُك" (میں نے تمہیں رخصت کیا)،فارقتُك" (میں نے تم سے جدائی اختیار کی)،یہ تمام الفاظ رد یا گالی کے معنی نہیں رکھتے۔ پس رضا کی حالت میں یہ تمام الفاظ نیت پر موقوف ہیں اور غصے کی حالت میں پہلے دو الفاظ (اعتدي اور استبرئي رحمك) نیت پر موقوف ہوں گے۔اور مذاکرۂ طلاق کے وقت صرف پہلا لفظ (اعتدي) نیت پر موقوف ہوگا۔اور "رضا کی حالت" سے مراد یہ ہے کہ نہ غصے کی حالت ہو اور نہ طلاق کی گفتگو چل رہی ہو،تو اس وقت یہ تینوں حالتیں (رضا، غصہ، مذاکرۂ طلاق) نیت پر موقوف ہوں گی۔(شرح الوقایہ ، کتاب الطلاق :جلد :3 ص:69 مکتبہ دار الوراق عمان)
فتاویٰ ھندیہ میں ہے : الطَّلَاقُ الصَّرِيحُ يَلْحَقُ الطَّلَاقَ الصَّرِيحَ بِأَنْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ وَقَعَتْ طَلْقَةٌ ثُمَّ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ تَقَعُ أُخْرَى وَيَلْحَقُ الْبَائِنُ أَيْضًا بِأَنْ قَالَ لَهَا أَنْتِ بَائِنٌ أَوْ خَالَعَهَا عَلَى مَالٍ ثُمَّ قَالَ لَهَا أَنْتِ طَالِقٌ وَقَعَتْ عِنْدَنَا وَالطَّلَاقُ الْبَائِنُ يَلْحَقُ الطَّلَاقَ الصَّرِيحَ بِأَنْ قَالَ لَهَا أَنْتِ طَالِقٌ ثُمَّ قَالَ لَهَا أَنْتِ بَائِنٌ تَقَعُ طَلْقَةٌ أُخْرَى وَلَا يَلْحَقُ الْبَائِنُ الْبَائِنَ بِأَنْ قَالَ لَهَا أَنْتِ بَائِنٌ ثُمَّ قَالَ لَهَا أَنْتِ بَائِنٌ لَا يَقَعُ إلَّا طَلْقَةٌ وَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ لِأَنَّهُ يُمْكِنُ جَعْلُهُ خَبَرًا عَنْ الْأَوَّلِ وَهُوَ صَادِقٌ فِيهِ فَلَا حَاجَةَ إلَى جَعْلِهِ إنْشَاءً لِأَنَّهُ اقْتِضَاءٌ ضَرُورِيٌّ حَتَّى لَوْ قَالَ عَنَيْت بِهِ الْبَيْنُونَةَ الْغَلِيظَةَ يَنْبَغِي أَنْ يُعْتَبَرَ وَتَثْبُتَ بِهِ الْحُرْمَةُ الْغَلِيظَةُ إلَّا إذَا كَانَ الْبَائِنُ مُعَلَّقًا بِأَنْ قَالَ إنْ دَخَلْت الدَّار فَأَنْت بَائِنٌ ثُمَّ قَالَ أَنْتِ بَائِنٌ ثُمَّ دَخَلَتْ الدَّارَ وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ تَطْلُقُ كَذَا فِي الْعَيْنِيِّ شَرْحِ الْكَنْزِ.ترجمہ:1: صریح طلاق ، صریح کو لاحق ہوتی سے ۔مثلاً: شوہر نے کہا: "تم طلاق والی ہو" تو ایک طلاق ہوگئی۔پھر دوبارہ کہا: "تم طلاق ہو" دوسری طلاق بھی واقع ہوجائے گی۔2:اسی طرح بائن طلاق بھی صریح طلاق کو لاحق ہوتی ہے۔مثلاً: شوہر نے کہا: "تم بائن ہو" یا خلع پر مال کے بدلے جدائی ہوئی، پھر کہا: "تم طلاق والی ہو" تو ہمارے نزدیک ایک اور طلاق واقع ہوگی۔3:بائن طلاق، صریح طلاق کو لاحق ہوتی ہے۔مثلاً: پہلے کہا: "تم طلاق والی ہو" ایک طلاق ہوگئی۔پھر کہا: "تم بائن ہو" ایک اور طلاق بائن واقع ہو جائے گی۔4:لیکن بائن، بائنکو لاحق نہیں ہوتی۔یعنی اگر شوہر نے کہا: "تم بائن ہو" پھر دوبارہ کہا: "تم بائن ہو"تو صرف ایک ہی طلاقِ بائن واقع ہوگی۔کیونکہ دوسرا جملہ پہلے والے جملے کی خبر بھی ہوسکتا ہے، اور اس معنی میں وہ سچا ہے۔ اس لیے اسے نئی طلاق دینا ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ہاں، اگر شوہر کہے: "میں نے بینونہ مغلظہ مراد لی تھی"تو اس کی بات معتبر ہوگی اور حرمتِ مغلّظہ ثابت ہوجائے گی۔لیکن یہ حکم اس وقت نہیں ہوگا جب بائن طلاق معلق ہو۔مثلاً شوہر نے کہا:اگر تم گھر میں داخل ہوئی تو تم بائن ہو"پھر اس کے بعد خود کہا: "تم بائن ہو"اور عورت عدّت میں تھی، پھر گھر میں داخل ہوگئی تو اس کے گھر میں داخل ہوتے ہی ایک اور طلاق واقع ہوجائے گی۔( ھندیہ:کتاب الطلا ق:جلد:1 ص:377 دارالفکر بیروت)
کتبــــــــــــــــــــــــــہ:عبدالخالق بن محمد عیسیٰ
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:1447 ھ/7فروری 2026ء