شیشہ کے آگے نماز پڑھنے کا حکم
    تاریخ: 7 جنوری، 2026
    مشاہدات: 16
    حوالہ: 543

    سوال

    اپنے آفس میں ہم جس جگہ نماز پڑھتے ہیں وہاں سامنے ٹرانسپرینٹ شیشہ لگا ہوا ہے جس میں آر پار نظر آتا ہے۔ لیکن اس میں اپنا اور پیچھے والوں کا عکس صاف نظر آتا ہے ۔ کیا اس صورت میں وہاں نماز پڑھنے میں کوئی حرج تو نہیں ہے نا؟ وہاں اس جگہ باقاعدہ جماعت ہوتی ہے ۔ اس مسئلہ میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔

    سائل: فیضان حکیم : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    آئینہ سامنے نماز بلاکراہت جائز ہے ،کیونکہ آئینہ میں دکھائی دینے والا عکس تصویر نہیں ہے۔لیکن اگر اس آئینہ سے نمازیوں کی نماز کے خشوع وخضوع میں خلل واقع ہوتا ہے تو اس صورت میں ایسے شیشوں کے سامنے نماز خلاف اولیٰ ہوگی وبس ۔ لہذاشیشوں پر کوئی مناسب کپڑے کا پردہ وغیرہ ڈال دیا جائے،اور پھر نماز ادا کی جائے ۔

    نیز نمازی کے لیے حکم یہ ہے کہ دوران نماز قیام کی حالت میں نگاہ سجدہ کی جگہ پر ہو ۔ اس صورت میں جب نگاہ سجدہ کی جگہ پر ہوگی ۔ شیشہ کی طرف نہ ہوگی تو نماز مکروہ بھی نہ ہوگی ۔مگر یہ کام کثرت ریاضت اور کامل توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہی ممکن ہے۔

    مفتی امجد علی اعظمی فتاویٰ امجدیہ میں لکھتے ہیں:آئینہ سامنے ہو تو نماز میں کراہت نہیں کہ سبب کراہت تصویر ہے اور وہ یہاں موجود نہیں ہے۔(فتاویٰ امجدیہ ،جلد 1 ص 184)

    حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں ہے:و"عند حضور كل "ما يشغل البال" عن استحضار عظمة الله تعالى والقيام بحق خدمته "ويخل بالخشوع" في الصلاة بلاضرورة لإدخال النقص في المؤدي۔ترجمہ: اور ہر اس چیز کی موجودگی میں نماز مکروہ ہے جو دل کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کی عظمت اور اس کے سامنے کھڑے ہونے کی ھیبت سے مشغول کردے۔ اور بلاضرورت نماز کے دوران خشوع و خضوع میں خلل واقع کردے کیونکہ اس سے نماز کی ادائیگی میں کوتاہی ہوگی۔(حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح جلد 1ص 191)

    اسی میں ہے: و" تكره بحضرة كل ما يشغل البال كزينة و بحضرة ما يخل بالخشوع كلهو ولعب ترجمہ: اور ہر اس چیز کی موجودگی میں نماز مکروہ ہے جو دل کو ا(للہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کی عظمت) سے مشغول کردے۔جیسے زینت (یعنی بناؤ سنگھار )اور نماز کے دوران خشوع و خضوع میں خلل واقع کردے۔ جیسے کھیل کود۔(حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح جلد 1ص 360)

    صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظی لکھتے ہیں :ایسی چیز کے سامنے جو دل کو مشغول رکھے نماز مکروہ ہے، مثلاً زینت اور لہو و لعب وغیرہ۔(بہار شریعت ، حصہ سوم ،جلد 1 ص636 ، مکتبۃ المدینہ)

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:12 ربیع الثانی 1440 ھ/20 دسمبر 2018 ء