سوال
میری ساس کی عمر 55 سال ہے ،وہ بیمار ہیں ، انکی دو آنتیں مل گئی ہیں یعنی انکی پاخانہ کی جگہ اور پیشاب کی جگہ مل گئی ہے،جسکی وجہ سے انکا پاخانہ بھی وہیں سے آرہا ہے جہاں سے پیشاب آتا ہے، اور ایک مسئلہ یہ ہے کہ ا ب انکو پاخانے پر قدرت نہیں رہتی خود بخود نکلتا رہتا ہے جیسا کہ عورتوں کو حیض نکلتا رہتا ہے ،ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اب یہ ساری عمر ایسے ہی رہیں گی۔ ہمیں یہ پوچھنا ہے کہ وہ قرآن و نماز وغیرہ کیسے پڑھیں گی۔
سائلہ: شازیہ ناز : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگرپاکی حاصل کرکے آپکی ساس کو اتنا وقت مل جاتا ہے کہ وہ آرام سے نماز پڑھ لیں اور اس دوران دوبارہ ناپاکی نہیں ہوتی تو لازم ہے ایسا ہی کریں لیکن اگر ایک کامل نماز کاوقت اس طرح گزر گیاکہ انہیں اتنا بھی وقت نہیں ملا کہ وہ وضو کرکے فرض ادا کرسکیں بلکہ اس دوران دوبارہ ناپاکی ہوجاتی ہے تو آپکی ساس شرعی معذور ہیں ۔اور شرعی معذور کے احکام یہ ہیں:
1: ہرنماز کا وقت آنے پرنیا وضو کرے۔
2: جس نماز کے وقت میں وضو کیا ،اس کے آخر تک اس وقت میں جتنی نمازیں (خواہ فرض ہوں ،نفل ہوں قضا ہوں )چاہے اس وُضو سے پڑھے۔
3: جو عذر لاحق ہوا اُس عذر کی وجہ سے اسکا وضو نہ ٹوٹے گا ، البتہ اسکے علاوہ کوئی دوسری وضو ٹوڑنے والی چیز پائی گئی تو وضو ٹوٹ جائے گا۔مثلا کسی کو قطروں کی بیماری ہو تو قطروں سے اسکا وضو نہیں ٹوٹے گا البتہ اگر خون نکل کر بہہ گیا تو وضو ٹوٹ جائے گا۔
4: جیسےاس نماز کا وقت ختم ہوگا ،جس کے لئے وضو کیا،اس کا وضو ٹوٹ جائے گا۔اگلی نماز کے لئے نیا وضو کرنا ہوگا۔
علامہ حسن بن عمار بن علی الشرنبلالی الحنفی المتوفى 1069ھ مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں لکھتے ہیں:وتتوضأ المستحاضة ومن به عذر كسلس بول أو استطلاق بطن" وانفلات ريح ورعاف دائم فبهذا يتوضؤون "لوقت كل فرض" لا لكل فرض ولا نفل لقوله صلى الله عليه وسلم: "المستحاضة تتوضأ لوقت كل صلاة" رواه سبط ابن الجوزي عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى فسائر ذوي الأعذار في حكم المستحاضة "ويصلون به" أي بوضوئهم في الوقت ما شاؤوا من "النوافل".والواجبات ويبطل وضوء المعذورين" إذا لم يطرأ ناقض غير العذر "بخروج الوقت۔ ترجمہ:استحاضہ والی عورت اور جس شخص کو کوئی عذر ہو جیسے پیشاب کے قطرے نکلنا،پیٹ جاری ہونا،ریح خارج ہونا،یا دائمی نکسیر تو یہ لوگ ہر فرض نماز کے وقت آنے پر وضو کریں، ہرفرض و نفل کی ادائیگی کے لئے الگ وضونہ کریں کیونکہ نبی کریم
ﷺ کا فرمان ہے استحاضہ والی عورت ہر نماز کے وقت کے لئے وضو کریں ۔ اسکو سبط بن جوزی نے امام اعظم سے روایت فرمایا ہے،جتنے بھی عذر والے لوگ ہیں سب کے سب مستحاضہ کے حکم میں ہیں ۔اور اس وضو سے نمازیں پڑھیں یعنی اس وضو سے جس قدر(فرائض) نوافل ،واجبات چاہیں ادا کریں۔اور نماز کا وقت ختم ہوتے ہی ان معذورین کا وضو ٹوٹ جائے گا۔جبکہ اس عذر کے علاوہ کوئی دوسرا ناقض وضو نہ پایا جائے۔(مراقی الفلاح شرح نور الایضاح ، ص 149)
سیدی اعلٰی حضرت معذور شرعی کی حد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ایک وقت کامل کسی نماز کا اس پر ایسا گزرا کہ وضو کرکے فرض پڑھ لینے کی مہلت نہ تھی تو جب تک ہر نماز کے وقت اگر چہ ایک ایک ہی بار ٹپکنا پایا جائے وہ معذور ہے ، اسے پانچ وقت تا زہ وضو کرنا کافی ہے۔(فتاوٰی رضویہ ،کتاب الصلوۃ جلد 6 ص538،رضا فاؤنڈیشن کراچی)
خلاصہ یہ ہے کہ اگر آپکی ساس شرعی معذور ہیں تو ہرنماز کے وقت نیا وضو کرکے نمازیں ،قرآن وغیرہ پڑھ سکتی ہیں۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:17 محرم الحرام 1441 ھ/17 ستمبر2019 ء