شافعی امام کے پیچھے نماز مفصل
    تاریخ: 7 جنوری، 2026
    مشاہدات: 14
    حوالہ: 541

    سوال

    کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ شافعی مسلک کا امام جو قرات میں تجوید کے احکام جانتا ہو،خوبصورت آواز کے ساتھ قرآن پڑھتا ہو ،عالم بھی ہو ، لیکن داڑھی منڈاتا ہو ۔وہ علماء احناف ،حفاظ ،قاری حضرات کی موجودگی میں حنفی مذہب کے لوگوں کی امامت کرواسکتا ہے یا نہیں ؟ برائے کرم قرآن و حدیث اور فقہ حنفی کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔

    سائل : قاری عبد الرزاق نقشبندی: عظیم پورہ


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ صورت کے جواب میں تفصیل ہے جسکو ہم چند مقدمات کے ساتھ بیان کریں گے۔

    مقدمہ اولٰی : داڑھی کا حکم عند الفقہاء :

    فقہاء احناف کے نزدیک ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے ۔لہذا جو شخص داڑھی بالکل نہ رکھے یا اسکی داڑھی حد شرع سے کم ہو ایسا شخص فاسق ہے، اور پھر اس فسق پر اصرار اسکو فاسق معلن بنا دے گا ۔ حاشیۃ طحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے:والأخذ من اللحية وهو دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة ومخنثة الرجال لم يبحه أحد وأخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الإعاجم فتح:ترجمہ: یعنی جب داڑھی ایک مشت سے کم ہو تو اس میں کچھ لینا جس طرح بعض مغربی اور زنانے زنخے کرتے ہیں یہ کسی کے نزدیک حلال نہیں اور سب لے لینا ایرانی مجوسیوں اور یہودیوں اور ہندیوں اور بعض فرنگیوں کا فعل ہے۔( حاشیۃ طحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح جلد 1ص 681، الشاملہ)

    الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

    وَأَمَّا الْأَخْذُ مِنْهَا وَهِيَ دُونَ ذَلِكَ كَمَا يَفْعَلُهُ بَعْضُ الْمَغَارِبَةِ، وَمُخَنَّثَةُ الرِّجَالِ فَلَمْ يُبِحْهُ أَحَدٌ، وَأَخْذُ كُلِّهَا فِعْلُ يَهُودِ الْهِنْدِ وَمَجُوسِ الْأَعَاجِمِ فَتْحٌ.ترجمہ: بہرحال جب داڑھی ایک مشت سے کم ہو تو اس میں کچھ لینا جس طرح بعض مغربی اور زنانے زنخے کرتے ہیں یہ کسی کے نزدیک حلال نہیں اور داڑھی بالکل منڈوانا ایرانی مجوسیوں اور یہودیوں اور ہندیوں اور بعض فرنگیوں کا فعل ہے۔( الدر المختار مع رد المحتار،باب ما یفسد الصوم جلد 2ص 418)

    شیخ عبد الحق محدث دہلوی شرح مشکوۃ میں لکھتے ہیں :

    حلق کردن لحیہ حرام ست وروش افرنج وہنود وجوالقیان کہ ایشاں راقلندریہ نیز گویند وگزاشتن آں بقدر قبضہ واجب ست وآں کہ آنرا سنت گویند بمعنی طریقہ مسلوک دردین ست یا بجہت آنکہ ثبوت آں بہ سنت ست چنانکہ نماز عیدرا سنت گفتہ اند:ترجمہ: داڑھی منڈانا حرام ہے، یہ افرنگیوں، ہندؤوں اور جوالقیوں کا طریقہ ہے جو قلندریہ بھی کہلاتے ہیں ۔ اور داڑھی بمقدار ایک مٹھی چھوڑنا واجب ہے اور داڑھی کے متعلق جو کہا جاتاہے کہ یہ سنت ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ دین میں ایک جاری طریقہ ہے یا یہ وجہ ہے کہ اس کا ثبوت سنت کے ساتھ ہے جیسا کہ نماز عید کو سنت کہتے ہیں۔( اشعۃ اللمعات ترجمہ مشکوٰۃ کتاب الطہارۃ باب السواک مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر جلد 1 ص 212)

    اور شوافع حضرات کے نزدیک داڑھی رکھنا افضل و اولٰی ہے ، چنانچہ ،شرح مسلم للنووی اور التثريب في شرح التقريب میں ہےواللفظ لہ :وَاسْتَدَلَّ بِهِ الْجُمْهُورُ عَلَى أَنَّ الْأَوْلَى تَرْكُ اللِّحْيَةِ عَلَى حَالِهَا وَأَنْ لَا يُقْطَعَ مِنْهَا شَيْءٌ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَصْحَابِهِ وَقَالَ الْقَاضِي عِيَاضٌ: يُكْرَهُ حَلْقُهَا وَقَصُّهَا وَتَحْرِيقُهَاترجمہ:اور جمہور نے اس سے استدلال کیا کہ داڑھی کو اسکی حالت پر چھوڑنا اور اس سے کچھ نہ کاٹنا اولٰی ہے یہی امام شافعی اور انکے اصحاب کا قول ہے اورقاضی عیاض مالکی نے کہا اسکو تراشنا،کاٹنا اور جلانا مکروہ ہے(طرح التثريب في شرح التقريب جلد2 ص 83 ،شرح مسلم للنووی،باب الاستطابہ جلد3 ص151 )

    یوں ہی تحفۃ الاحوذی شرح ترمذی میں ہے:

    وقال عِيَاضٌ يُكْرَهُ حَلْقُ اللِّحْيَةِ وَقَصُّهَا وَتَحْذِيفُهَا وَأَمَّا الْأَخْذُ مِنْ طُولِهَا وَعَرْضِهَا إِذَا عَظُمَتْ فَحَسَنٌ بَلْ تُكْرَهُ الشُّهْرَةُ فِي تَعْظِيمِهَا كَمَا يُكْرَهُ فِي تَقْصِيرِهَا كَذَا قَالَ وَتَعَقَّبَهُ النَّوَوِيُّ بِأَنَّهُ خِلَافُ ظَاهِرِ الْخَبَرِ فِي الْأَمْرِ بِتَوْفِيرِهَا قَالَ وَالْمُخْتَارُ تَرْكُهَا عَلَى حَالِهَا وَأَنْ لَا يَتَعَرَّضَ لَهَا بِتَقْصِيرٍ وَلَا غَيْرِهِ وَكَانَ مُرَادُهُ بِذَلِكَ فِي غَيْرِ النُّسُكِ لِأَنَّ الشَّافِعِيَّ نَصَّ عَلَى اسْتِحْبَابِهِ فِيهِ :ترجمہ: اور قاضی عیاض مالکی نے فرمایا کہ داڑھی تراشنا،کم کرنا اور ختم کرنا مکروہ ہے ، لیکن جب زیادہ لمبی ہوجائے تواسکو لمبائی اور چوڑائی میں کاٹنا مستحسن ہے بلکہ لمبی داڑھی میں مشہور ہونا مکروہ ہے، جیسا کہ کم کرنا مکروہ ہے اور امام نووی نے انکا تعاقب کیا کہ یہ بات حدیث کے خلاف ہے کیونکہ حدیث میں بڑھانے کا حکم ہے (بغیر حد کے)اور مختار (پسندیدہ،اولٰی تر)یہ ہے کہ داڑھی کو اسکی حالت پر چھوڑدے اور اس میں کچھ کمی زیادتی نہ کرے،اور انکی اس سے مراد حج و عمرہ کے علاوہ میں ہے کیونکہ حج و عمرہ کے باب میں امام شافعی نے اسکے مستحب ہونے پر نص فرمائی ہے۔(تحفة الأحوذي شرح جامع الترمذي جلد 8 ص 38)

    مقدمہ ثانیہ:ترک سنت یا ترک اولٰی سے فسق ثابت نہیں ہوتا :

    بحکم مقدمہ اولٰی یہ بات معلوم ہوگئی کہ داڑھی شوافع کے ہاں واجب نہیں ہے۔تو اب اگر کوئی شافعی داڑھی نہ رکھے تو اس پر حکم فسق نہیں آئے گا کیونکہ یہ شخص تارک واجب نہیں ہے ،بلکہ تارک سنت یا تارک اولٰی ، اور ہر دو اس قابل نہیں کہ انکے ہوتے ہوئے حکم فسق آئے۔ کیونکہ ہمارےفقہاء نے اپنی کتب میں اس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ اگر ایک چیز کسی امام کے نزدیک واجب ہو اور دوسرے کے نزدیک واجب نہ ہو اوراس پر ترک عمل کسی دلیل کی بناء پر ہو تو اس پر حکم فسق نہ ہوگا : جیسا کہ اصول فقہ کی معرکۃ الآراء کتاب توضیح میں ہے:

    فَالْفَرْضُ لَازِمٌ عِلْمًا وَعَمَلًا حَتَّى يُكَفَّرَ جَاحِدُهُ وَالْوَاجِبُ لَازِمٌ عَمَلًا لَا عِلْمًا، فَلَا يُكَفَّرُ جَاحِدُهُ بَلْ يُفَسَّقُ إنْ اسْتَخَفَّ بِأَخْبَارِ الْآحَادِ الْغَيْرِ الْمُؤَوَّلَةِ، وَأَمَّا مُؤَوِّلًا، فَلَا:ترجمہ:فرض پر عمل کرنا اور اسکے فرض ہونے کا عقیدہ رکھنا لازم ہے حتٰی کہ فرض کے منکر پر حکم کفر لگایا جائے گا۔ جبکہ واجب پر عمل تو لازم ہے لیکن اسکے واجب ہونے کا عقیدہ رکھنا لازم نہیں ہے لہذا واجب کے منکر پر حکم کفر نہ ہوگا، بلکہ اگر خبر واحد غیر مؤولہ کے ذریعے اسکو خفیف جانے تو اس پر حکم فسق لگایا جائے گا۔اور تاویل کے ذریعے عمل نہ کرے تو حکم فسق نہیں لگایا جائے گا۔

    اسکے تحت علامہ تفتازانی تلویح میں لکھتے ہیں :أَيْ يَلْزَمُ اعْتِقَادُ حَقِّيَّتِهِ وَالْعَمَلُ بِمُوجَبِهِ لِثُبُوتِهِ بِدَلِيلٍ قَطْعِيٍّ حَتَّى لَوْ أَنْكَرَهُ قَوْلًا، أَوْ اعْتِقَادًا كَانَ كَافِرًا وَالْوَاجِبُ لَا يَلْزَمُ اعْتِقَادُ حَقِّيَّتِهِ لِثُبُوتِهِ بِدَلِيلٍ ظَنِّيٍّ وَمَبْنَى الِاعْتِقَادِ عَلَى الْيَقِينِ لَكِنْ يَلْزَمُ الْعَمَلُ بِمُوجَبِهِ لِلدَّلَائِلِ الدَّالَّةِ عَلَى وُجُوبِ اتِّبَاعِ الظَّنِّ فَجَاحِدُهُ لَا يُكَفَّرُ وَتَارِكُ الْعَمَلِ بِهِ إنْ كَانَ مُؤَوِّلًا لَا يُفَسَّقُ، وَلَا يُضَلَّلُ؛ لِأَنَّ التَّأْوِيلَ فِي مَظَانِّهِ مِنْ سِيرَةِ السَّلَفِ:

    ترجمہ: یعنی فرض کے حق ہونے کا اعتقاد رکھنا اور اسکے موجب پر عمل لازم ہے کیونکہ فرض کا ثبوت دلیل قطی ہے ہوتا ہے یہاں تک کہ اگر کوئی اپنے قول یا عقیدہ کے ذریعے فرض کا انکار کرتا ہے تو وہ کافر ہے ۔ اور واجب وہ ہے جسکے حق ہونے کا اعتقاد لازم نہیں ہے کیونکہ اسکا ثبوت دلیل ظنی سے ہوتا ہے ، اور اعتقاد کی بنیاد یقین پر ہے نہ کہ ظن پر۔ لیکن ظن کی اتباع پر دلالت کرنے والے دلائل کی بنیاد پر اس واجب کے موجب پر عمل کرنا لازم ہے ۔ لہذا اسکے منکر پر حکم کفر نہ ہوگا اور اگر ا س واجب پر کسی دلیل کی بناء پر عمل نہیں کرتا تو اس پر نہ فاسق ہونے کا حکم لگایا جائے گا اور نہ ہی گمراہ ہونے کا۔کیونکہ مقام ظن میں تاویل (اور دلائل کا اختلاف) اسلاف کا طریقہ ہے۔ (شرح التلويح على التوضيح جلد 2 ص 247)

    یونہی قواطع الادلہ فی الاصول میں ہے:أن كثيرا من المجتهدين يستدل بالقرآن في مواضع وبالنصوص في مواضع ولا شك أنه الدليل ما عداه ومع ذلك لا يفسق تارك ذلك لأن كل واحد من المجتهدين يرجع إلى دليل عنده ويصير إلى تأويل لما يتعلق به من مخالفة لذلك:ترجمہ: بہت سے مجتہدین کچھ مقامات پر قرآن سے استدلال کرتے ہیں ، اور دوسرے مجتہدین نصو ص(احادیث) سے استدلال کرتے ہیں ۔ حالانکہ اس میں شک نہیں کہ دونوں الگ الگ دلیلیں ہیں اسکے باوجود اسکو(ایک دوسرے کے مذہب پر عمل) چھوڑنے والے کو فاسق نہیں کہا جائے گا کیونکہ مجتہدین میں سے ہر ایک اپنی اپنی دلیل کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس ایک دوسرے کے خلاف بات کو تاویل کی طرف پھیرتا ہے۔(قواطع الادلہ فی الاصول جلد 2 ص 320)

    الاختیار لتعلیل المختار میں ہے:قَالَ:(وَتُقْبَلُ شَهَادَةُ الْأَقْلَفِ) لِأَنَّ تَرْكَ السُّنَّةِ لَا يُوجِبُ الْفِسْقَ ترجمہ:اور غیر مختون کی گواہی قبول ہے کیونکہ سنت چھورنے کی وجہ سے فسق لازم نہیں آتا۔(الاختيار لتعليل المختار جلد 2 ص 149)

    یونہی سیدی اعلٰی حضرت فتاوٰی رضویہ میں لکھتے ہیں :

    اقول وقد کانت ظھرت لی بحمد اﷲ الخمسۃ المذکورۃ اول مانظرت الکلام مع زیادۃ فلنذکر مابقی من الابحاث تتمیما للافادۃ الاول قولھم لم یوتر اصلالایظھرلہ وجہ فانہ بترکہ لایفسق فضلا عما یوجب بطلان الاقتداء فان الوتر وان وجب عندنا فہو مجتہد فیہ ولاتفسیق بالاجتھادیات:ترجمہ: اقول (میں کہتاہوں) بحمداﷲ سرسری نظر میں یہ پانچ ہی تھے،کچھ اور بحثیں بھی ہیں،ہم ان باقی کو افادہ کے لئے یہاں ذکرکردیتے ہیں،اول،اصلا وہ وتر نہ پڑھتاہو ان کایہ قول درست نہیں کیونکہ وتر کے ترک سے وہ فاسق نہیں ہوتاچہ جائیکہ اس کی اقتداء کو باطل قراردیاجائے کیونکہ وتر ہمارے ہاں اگرچہ واجب ہیں لیکن یہ مسئلہ اجتہادی ہے اور اجتہادی مسائل میں کسی کوفاسق قرارنہیں دیاجاسکتا۔

    مقدمہ ثالثہ:شافعی امام کی اقتداء کب درست ہے اور کب نہیں؟

    اس کی چند صورتیں ہیں :

    1: اگر شافعی امام صحیح العقیدہ سنی ہو ،اور تمام ارکان و شرائط کا عالم اور انکی رعایت کرکے نماز پڑھاتا ہے اور اس امام میں کوئی ایسی بات موجود نہیں ہے،جس کے ہوتے ہوئے ہم احناف کے مذہب پر نماز یا وضو فاسد ہوجاتا ہےیا اس امام نے خاص اس نماز کے لیے ان امور کی رعایت کا التزام کیا ہے جو ہم احناف کے ہاں ناقض وضو یا مفسد نماز ہےتو اسکے پیچھے بلاشبہ نماز جائز ہے ۔

    2: اگر ایسی کوئی بات پائی گئی جو ہم احناف کے مذہب پر نماز یا وضو کو فاسد کردے۔تو اقتداء حرام اور نماز باطل ہے۔

    3: اگر کوئی بات معلوم کئے بغیر محض اس بناء پر امام بنا دیا کہ قرات اچھی ہے یا کوئی اوروجہ ترجیح ہو تواب اس کے پیچھے نماز مکروہ بکراہت تنزیہی ہے۔

    لیکن اس میں یہ بھی شرط کہ یہ حنفی مقتدی ان امور میں اس شافعی امام کی متابعت نہ کرے جو ہمارے ہاں نماز میں غیر مشروع ہیں جیسے رفع یدین یا فجر میں قنوت پڑھنا یا سینے پر ہاتھ باندھنا وغیرہ ۔ وگرنہ امر غیر مشروع کی مقدار کے مطابق نماز مکروہ تحریمی یا تنزیہی ہوگی۔

    غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی میں ہے:

    اما الا قتداء بالمخالف فی الفروع کالشافعی فیجُوز مالم یعلم منہ مایفسد الصلاۃ علٰی اعتقاد المقتدی علیہ الاجماع، إنَّمَا اُخْتُلِفَ فِي الْكَرَاهَةِ.ترجمہ: فروعات میں مخالف مثلاً شافعی المسلک کی اقتداء اس وقت جائز ہوگی جب اس سے ایسے عمل کا علم نہ ہو جو اعتقاد ِمقتدی میں مفسدِنماز ہو ،اسی جواز پر اجماع ہے البتہ کراہت میں اختلاف ہے۔(بعض نے کہا مکروہ تنزیہی ہے اور بعض نے کہا مکروہ نہیں ہے)( غنیۃ المستملی شرح منیۃ المستملی فصل فی الامامۃ، مطبوعہ مکتبہ نعمانیہ ، کوئٹہ ص 445)

    علامہ شامی رحمہ اللہ حاشیۃ البحر میں مذکورہ جزئیہ نقل فرمانے کے بعد لکھتے ہیں :

    أَنَّ الِاخْتِلَافَ فِي الْكَرَاهَةِ عِنْدَ عَدَمِ الْعِلْمِ بِالْمُفْسِدِ وَالْمُفْسِدُ إنَّمَا هُوَ تَرْكُ شَرْطٍ أَوْ رُكْنٍ فَقَطْ ثُمَّ رَأَيْت التَّصْرِيحَ بِذَلِكَ فِي رِسَالَةٍ فِي الِاقْتِدَاءِ لِمُنْلَا عَلِيٍّ الْقَارِي وَأَنَّهُ فِيمَا عَدَا الْمُبْطِلِ يَتْبَعُ مَذْهَبَهُ :ترجمہ:اختلاف کراہت میں اس وقت ہے جب مفسد کا علم نہ ہو،اور مفسدمحض شرط کو چھوڑنا یا رکن کو چھوڑنا ہے پھر میں نے ملا علی قاری کے رسالے الاھتداء فی الاقتداء میں اسی بات کی صراحت دیکھی ۔ اور یہ کہ مبطل (یعنی جو نماز کو فاسد کرنے والی ہیں) کے علاوہ میں اسکے مذہب کے اتباع کی جائیگی ۔(منحۃ الخالق علی البحر الرائق ،باب القنوت فی غیر الوتر جلد 2ص 50،الشاملہ)

    اورشامی میں فرمایا :

    وَفِي رِسَالَةِ [الِاهْتِدَاءِ فِي الِاقْتِدَاءِ] لِمُئلَا عَلِيٍّ الْقَارِئُ: ذَهَبَ عَامَّةُ مَشَايِخِنَا إلَى الْجَوَازِ إذَا كَانَ يُحْتَاطُ فِي مَوْضِعِ الْخِلَافِ وَإِلَّا فَلَا وَالْمَعْنَى أَنَّهُ يَجُوزُ فِي الْمُرَاعِي بِلَا كَرَاهَةٍ وَفِي غَيْرِهِ مَعَهَا.ترجمہ:ملا علی قاری کے رسالے میں ہے کہ اکثر مشائخ اس طرف گئے ہیں کہ جب اختلافی مقام پر احتیاط کرے تو جائز ورنہ جائز نہیں ہے۔ اور اسکا مطلب یہ ہے کہ اگر مقام رعایت میں اقتداء بلاکراہت جائز ہے اور اسکے علاوہ میں کراہت کے ساتھ جائز ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار مع تنویر الابصار ،کتاب الصلوۃ ،باب الامامۃ ،جلد 1ص 563،الشاملہ)

    علامہ ابن نجیم نے البحر الرائق میں اس مسئلے پر مفصل گفتگو فرمائی جسکے بعد لکھتے ہیں :

    حاصلہ ان صاحب الھدایۃ جوزالاقتداء بالشافعی بشرط ان لایعلم المقتدی منہ مایمنع صحۃ صلاتہ فی رأی المقتدی کالفصد ونحوہ وعددمواضع عدم صحۃ الاقتداء بہ فی العنایۃ وغایۃ البیان بقولہ کما اذالم یتوضأ من الفصد والخارج من غیرالسبیلین وکماکان شاکافی ایمانہ بقولہ انامومن ان شاء اﷲ اومتوضأ من القلتین اویرفع یدیہ عندالرکوع وعند رفع الراس من الرکوع اولم یغسل ثوبہ من المنی ولم یفرکہ اوانحرف عن القبلۃ الی الیسار اوصلی الوتر بتسلیمتین اواقتصرعلی رکعۃ اولم یوتراصلا اوقھقھہ فی الصلاۃ ولم یتوضأ اوصلی فرض الوقت مرۃ ثم ام القوم فیہ زاد فی النہایۃ وان لایراعی الترتیب فی الفوائت وان لایمسح ربع راسہ وزاد قاضی خاں وان یکون متعصبا والکل ظاھر ماعدا خمسۃ اشیاء:ترجمہ: حاصل یہ ہے کہ صاحب ہدایہ نے شافعی کی اقتداء کو اس شرط کے ساتھ جائز کہاہے کہ جب مقتدی اس امام کے کسی ایسے عمل کو نہ جانتا ہوجومقتدی کی رائے کے مطابق صحت نماز کے منافی ہے۔ مثلاً رگ کٹوانا وغیرہ، ، عدم صحت اقتداء کے چند مواضع عنایہ اور غایۃ البیان سے، ان الفاظ سے بیان کئے کہ مثلاً جب اس امام نے رگ کٹوانے یاغیرسبیلین سے کسی شے کے خارج ہونے پر وضو نہ کیا ہو یا اس امام کے ایمان میں شک ہے، مثلاً وہ یہ کہتا ہے کہ ''ان شأاﷲمیں مومن ہوں'' یا وہ قلتین پانی سے وضو کرتاہے یا رکوع جاتے وقت اور اُٹھتے وقت رفع یدین کرتاہے یا وہ منی لگ جانے کی وجہ سے کپڑے کو نہیں دھوتا اور نہ ہی اسے کھرچتا ہے(گاڑھی ہونے کی صورت) میں یا وہ قبلہ سے بائیں جانب پھرتاہے یاوہ دوسلاموں سے وتراداکرتاہے یاایک رکعت وترپڑھتاہے یابالکل پڑھتاہی نہیں یانماز میں قہقہہ سے ہنستاہے اور وضونہیں کرتا یاایک دفعہ وقتی نماز پڑھاچکاہے پھر اسی نماز کا امام بن جاتاہے۔ اس پر نہایہ میں اضافہ ہے کہ فوت شدہ نمازوں میں ترتیب کی رعایت نہ رکھتاہو حالانکہ وہ صاحب ترتیب ہو سر کے چوتھائی حصہ کا مسح نہ کرے، قاضی خاں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ وہ متعصب ہو،ان پانچ کے علاوہ باقی تمام واضح ہیں۔( البحرالرائق شرح کنز الدقائق،باب الوتر والنوافل ، جلد 2 ص 48،الشاملہ)

    علامہ شامی ملا علی قاری کے حوالے سے لکھتے ہیں:

    وَاَلَّذِي يَمِيلُ إلَيْهِ الْقَلْبُ عَدَمُ كَرَاهَةِ الِاقْتِدَاءِ بِالْمُخَالِفِ مَا لَمْ يَكُنْ غَيْرَ مُرَاعٍ فِي الْفَرَائِضِ، لِأَنَّ كَثِيرًا مِنْ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ كَانُوا أَئِمَّةً مُجْتَهِدِينَ وَهُمْ يُصَلُّونَ خَلْفَ إمَامٍ وَاحِدٍ مَعَ تَبَايُنِ مَذَاهِبِهِمْ، ترجمہ: (ملا علی قاری فرماتے ہیں )جس بات کی طرف میرا دل مائل ہورہاہے وہ یہ ہے کہ جب تک مخالف (مذہب کا امام)نماز کی فرائض(وشرائط) میں رعایت کرنے والاہوتواسکی اقتداء مکروہ نہ ہوگی،کیونکہ بہت سے صحابہ اور تابعین مجتہد ائمہ تھے اور وہ وہ ایک دوسرے کے پیچھے نمازیں پڑھتے تھے حالانکہ انکے مذاہب ایک دوسرے کے برعکس بھی ہوتے تھے۔(رد المحتار علی الدر المختار مع تنویر الابصار ،کتاب الصلوۃ ،باب الامامۃ ،جلد 1ص 563،الشاملہ)

    سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں:

    اگر معلوم ہے کہ اس وقت امام میں وہ بات ہے جس کے سبب میرے مذہب میں اس کی طہارت یا نماز فاسد ہے تو اقتداء حرام اور نماز باطل ، اور اگر اس وقت خاص کا حال معلوم نہیں مگر یہ معلوم ہے کہ یہ امام میرے مذہب کے فرائض وشرائط کی احتیاط نہیں کرتا تو اس کی اقتداء ممنوع اور اس کے پیچھے نماز سخت مکروہ اور اگر معلوم ہے کہ میرے مذہب کی بھی رعایت واحتیاط کرتاہے یا معلوم ہو کہ اس نماز خاص میں رعایت کئے ہوئے ہے تو اس کے پیچھے نماز بلا کراہت جائز ہے جبکہ سنی صحیح العقیدہ ہو نہ غیر مقلد کہ اپنے آپ کو شافعی ظاہر کرے اور اگر کچھ نہیں معلوم تو اس کی اقتداء مکروہ تنزیہی۔ (فتاوٰی رضویہ ،کتاب الصلوۃ ،جلد 6 ص 579 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    خلاصہ:

    ان مقدمات کے بعد آپکے سوال کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں جب اس شافعی المسلک امام کے علاوہ دیگر ایسے لوگ موجود ہیں جو بمطابق فقہ حنفی تمام شرائط امامت کو جامع ہیں ، اور باریش ہیں پھر اس شافعی المسلک داڑھی منڈے شخص کواپنے اختیار سے امام بنادیناخلاف اولٰی کا ارتکاب ہے ۔لیکن اسکی اقتداء میں نماز ادا ہوجائے گی،اور جماعت ترک کرنے سے بہتر ہے کہ اسکی اقتداء میں نماز ادا کرلی جائے۔ کیونکہ ہمارے فقہاء نے

    صراحت فرمائی ہے کہ مفسد کے علم ہونے کی موجودگی میں اقتداء جائز نہ ہوگی،اور مفسد سے مراد کسی رکن یا شرط کو ترک کرنا ہے(کما مر)

    جبکہ داڑھی نہ ہونے میں ترک شرط یا ترک رکن لازم نہیں ۔پھر شافعی حضرات کے مذہب میں داڑھی رکھنا واجب بھی نہیں ہے(جیسا کہ گزرا)لہذا داڑھی نہ ہونے کی بنیاد پر ایسے امام پر فسق کا حکم نہ لگے گا( جیسا کہ ہم نے مقدمہ ثانیہ میں اسکو اقوال فقہاء سے ثابت کیا ہے) تو جب حکم فسق نہیں ، تو فاسق معلن نہ ہوا، جب فاسق معلن نہیں تو اسکے پیچھے نماز جائز ہے البتہ اسکے اپنے عقیدے کے مطابق اس نے ترک سنت ضرور کیا جسکی بنیاد پر یہ نماز خلاف اولٰی ضرور ہوئی۔ لیکن واجب الاعادہ ہر گز نہیں ۔

    اور رہا داڑھی منڈا حنفی امام تو اسکے پیچھے نماز قطعاویقینا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی۔ جیساکہ فتاوٰی رضویہ،فتاوٰی فیض رسول،فتاوٰی فقیہ ملت،فتاوٰی امجدیہ اور دیگر فتاوٰی میں ہے۔

    ہذا ما عندی واللہ الکبیر المتعال وھو اعلم بحقیقۃ الحال والیہ المرجع والمآب واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب صحیح:مفتی محمد عمران شامی

    تاریخ اجراء:01 جمادی الاول 1440 ھ/08 جنوری 2019 ء