سوال
آج کل کرونا وائرس کی وجہ سے حکومت کی جانب سے مساجد میں آنے والوں کے لئے چند پابندیاں لگائی جارہی ہیں ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ مساجد کے بیرونی گیٹ پر سینی ٹائزر نصب کئے جائیں ۔ہماری مسجد میں بھی سینی ٹائزر گیٹ نصب کیا گیا ہے ، روزہ کی حالت میں ایک شخص کے منہ میں سینی ٹائزر کے ذرات داخل ہوگئے ۔ کیا اس صورت میں روزہ باقی رہا یا فاسد ہوگیا۔؟
سائل:مولانا عبداللہ حیدری :حیدرآباد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جان بوجھ کر بالارادہ روزہ یاد ہوتے ہوئے اگر سینی ٹائزر کے ذرات کو کھینچا اور وہ حلق سے نیچے اتر گئے تو روزہ فاسد ہوجائے گا۔ اور صرف اس روزہ کی قضا لازم ہوگی کفارہ لازم نہ ہوگا۔اور اگربغیر ارادے کے محض سینی ٹائزر گیٹ سے گزرتے ہوئے سینی ٹائزر کے ذرات حلق سے نیچے اتر گئے اگر چہ روزہ ہونا یاد ہو تو بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔اور اگر اسکے ذرات صرف منہ تک محدود رہے اور حلق سے نہ اترے تو بھی روزہ فاسد نہ ہوگا۔
تفصیل :
جو چیزیں ہوا یا سانس کے ذریعے حلق تک پہنچتی ہیں ،ان میں روزہ ٹوٹنے کا مدار اس پر ہے کہ ان چیزوں کو قصدا اور ارادتاََ حلق سے اتارا جائے، لہذا اگر قصداََ اور اردتاََ لے کر جائیں تو روزہ فاسد وگرنہ نہیں۔
کیونکہ خود بخود ان چیزوں کے دخول سے احتراز ممکن نہیں اگر منہ بند کر بھی لیا جائے تو ناک کے ذریعے دماغ تک چلے جانے کا امکانِ قوی موجود ہے ۔ ہاں ادخال یعنی قصدا ََ و ارادتاََ لے جانے سے احتراز ضرور ممکن ہے۔ لہذا پہلی صورت میں روزہ نہ ٹوٹے گا جبکہ دوسری میں ٹوٹ جائے گا۔
اب دیکھئے سینی ٹائزر جو کہ ذرات کی شکل میں کیمیکل یا دوائی ہوتی ہے جب انسان اس گیٹ سے گزرتا ہے تو خود کارطریقے سے ہر طرف سے وہ ذرات نکل کر انسان پر آگرتے ہیں ، لہذا بہت ممکن ہے اس گزرنے والے کے ارادے کے بغیر یہ ذرات منہ یا ناک کے ذریعے حلق تک پہنچ کر اتر جائیں ،اور اسے معلوم نہ ہو سکے۔لہذا اسکا روزہ نہ جائے گا۔
ہاں جب اس نے بالقصد و بالارادہ ذرات کو حلق سے اتار لیا تو اب اسکا روزہ فاسد ہونے میں کیا شبہ؟ یعنی ان جیسی اشیاء میں اصل مدار دخول و ادخال پر ہے کہ ان میں سے ادخال مفسد ہے نہ کہ دخول۔
اس مسئلہ کی کئی نظائر سے کتبِ فقہ مملو ومزین ہیں ۔ فقہاء کرام کی کتابیں ایسی عبارات سے مرشح ہیں جن میں بالقصد پانی منہ میں ڈالنے اور اسکی اتنی مقدار حلق سے اترنے کی صورت میں کہ جس مقدار سے احتراز ممکن نہیں روزہ فاسد نہ ہوگا۔جیساکہ اگر کسی شخص نے کلی کی اور کلی کرنے کے بعد کچھ تری جو منہ میں رہ گئی تھی وہ تھوک کے ساتھ مل کر حلق سے اتر گئی تو روزہ فاسد نہ ہوتا۔
چناچہ امام کردری وجیزمیں فرماتے ہیں: اذا بقی بعد المضمضۃ ماء فابتلعہ بالبزاق ثم لم یفطر لتعذر الاحتراز۱۔اگر کُلی کے بعد منہ میں کچھ پانی باقی رہ جائے اور روزہ دار اسے تھوک کے ساتھ نگل جائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا کیونکہ اس سے بچنا ممکن نہیں ۔ (بزازیہ بر حاشیہ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الصوم ، جلد4 ص100 نورانی کتب خانہ پشاور )
اس مسئلے میں غور کریں کہ یہاں تو پانی بالقصد منہ میں ڈالا گیا اور کلی کرنے بعد کے مابقی تھوک سے مل کر حلق سے اتر گیا لیکن روزہ فاسد نہ ہو یہاں بھی وجہ وہی ظاہر کہ یہ دخول بلاقصد و ارادہ ہے نہ کہ ادخال۔
پھر غوطہ والے مسئلہ میں فتح القدیر کی صراحت روزِ روشن کی طرح واضح و عیاں ہے، فرماتے ہیں:الفساد اذاأدخل الماء أذنہ لااذا دخل بغیرصنعہ کما اذا خاض نھرا۔ ترجمہ:روزے کا فساد تب ہوگا جب خود اپنے کان میں پانی داخل کرے، اپنے عمل کے بغیر پانی داخل ہونے سے فاسد نہ ہوگا جیسا کہ نہر میں غوطہ زن ہُوا۔(فتح القدیر، باب مایوجب القضاء والکفارۃ ،جلد 2 ص 342)
اسی میں ایک اور مقام پر ہے: صارایضا کبلل یبقی فی فیہ بعد المضمضۃ۔یہ اس تری کی طرح بھی ہے جوکلی کے بعد منہ میں باقی رہ جاتی ہے۔(فتح القدیر، باب مایوجب القضاء والکفارۃ ،جلد 2 ص 332)
مجمع الانہر شرح ملتقی الابہر میں ہے: انہ لایقدر علی الامتناع عنہ فانہ اذا اطبق الفم لایستطاع الاحتراز عن الدخول من الانف فصار کبلل یبقی فی فیہ بعد المضمضۃ۔ترجمہ:روزہ دار اسے روکنے پر قادر نہیں کیونکہ اگر منہ بند بھی رکھے پھر بھی ناک کے ذریعے دخول سے احتراز کی طاقت نہیں رکھتا تو یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے وُہ تری جوکُلی کے بعد منہ میں باقی رہ جاتی ہے۔(مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب موجب الفساد ، ج 1 ص 245 داراحیاء التراث العربی بیروت)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: دیکھو کُلی کے بعد جو تری منہ میں باقی رہتی ہے اُسے بھی شرع نے اسی تعذر تحرز کی بنا پر مفطر نہ ٹھہرایا اب وہاں یہ لحاظ ہرگز نہیں کہ یہ کُلی خود بھی ممکن الاحتراز تھی یا نہیں، اگر محض بے ضرورت کُلی کی جب بھی وُہ تری ناقضِ صوم نہ ہوگی حالانکہ ضرور کہہ سکتے تھے کہ یہ اس کا دخول اس کُلی کرنے سے ہوا، نہ کرتا نہ ہوتا، اور کُلی بے ضرورت تھی تو ممکن الاحتراز ہُوا۔(فتاوٰی رضویہ، جلد 10 ص 497،رضا فاؤنڈیشن لاہور۔)
کچھ آگے ارشاد فرماتے ہیں:ثم اقول: وباﷲالتوفیق اس پر تو عرشِ تحقیق مستقر ہُوا کہ دخول بلا صنعہ کیفما کان (بلا قصد دخول جیسے بھی ہو۔)اصلا صالح افطار نہیں ، ولہذا علمائے کرام نے مدار فرق صرف دخول و ادخال پر رکھا، دخول کا کوئی فرد مفطر میں داخل نہ کیا۔(فتاوٰی رضویہ، جلد 10 ص 498 ،رضا فاؤنڈیشن لاہور۔)
ان دلائل سے واضح ہوا کہ سینی ٹائزر گیٹ سے گزرتے وقت اعتبار بلاقصد دخول اور بالقصد ادخال کاہے۔ اول غیرمفسد و ثانی مفطر ہے۔
پھرمزید غور کیا جائے تو مسئلہ غبار و دخان بھی اسکی مؤیدات میں سے ہے، حکم اگر چہ اسکا اور مذکورہ بالا کا ایک سا ہے تاہم کیفیت و حقیقت میں اختلاف ضرور ہے۔ سینی ٹائزر، غبار و دھویں کی من کل الوجوہ مثل نہیں بن سکتا البتہ مؤید بننے میں کچھ مانع نہیں۔
دھنویں ،غبار وغیرہ کے سلسلے میں علامہ علاء الدین حصکفی فرماتے ہیں: أو دخل حلقه غبار أو ذباب أو دخان) ولو ذاكرا استحسانا لعدم إمكان التحرز عنه، ومفاده أنه لو أدخل حلقه الدخان أفطر أي دخان كان ولو عودا أو عنبرا له ذاكرا لإمكان التحرز عنه۔ ترجمہ:جن صورتوں میں روزہ نہیں ٹوٹتا ان میں سے یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے حلق میں غبار، مکھی یا دھواں داخل ہوجائے۔ اگر چہ اسے اپنا روزے دار ہونا معلوم ہو ۔ اور یہ حکم استحسان پر مبنی ہے کیونکہ ان چیزوں سے بچنا ممکن نہیں ہے۔اور اس کا مفاد یہ ہے کہ اگر کوئی جان بوجھ کر دھواں (یااسکی مثل)کچھ حلق میں داخل کرلے تو اسکا روزہ فاسد ہوجائے گا اگر چہ وہ دھواں عود، عنبر یا کسی اور چیز کا ہو کیونکہ اس سے بچنا ممکن ہے۔(الدرالمختار مع ردالمحتار ،کتاب الصوم ،باب ما یفسد ومالایفسد جلد 2 ص 395۔مطبوعہ بیروت)
نور الایضاح میں ہے: دخل حلقہ دخان بلاصنعہ او غبار ولو غبار الطاحون۔ترجمہ:اگر کسی کے حلق میں دھویں یا آٹے کا غبار خود بخود داخل ہوگیا تو روزہ فاسد نہ ہوگا۔(نورالایضاح، باب ما لایفسد الصوم، ص 131 مطبوعہ بیروت)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں : کاغذ یا کنکر یا خاک وغیرہا اشیاکو کہ نہ دوا ہیں نہ غذا، نہ مرغوبِ طبع ، اگر تل بھر نہیں پیٹ بھر کھالے گا ، صرف قضا ہوگی کفارہ نہ آئے گا۔(فتاوٰی رضویہ، جلد 10 ص 595،رضا فاؤنڈیشن لاہور۔)
فتاویٰ رضویہ میں سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: بالجملہ مسئلہ غبارودخان میں دخول بلا قصد و ادخال بالقصد پر مدارِ کارہے ۔ اوّل اصلاً مفسد صوم نہیں اور ثانی ضرورمفطر۔
مزید فرماتے ہیں: بس دخولِ دخان و غبار بے قصد و اختیار کبھی کہیں پایا جائے اصلاً مفسدِ صوم نہیں ہوسکتا، نہ اس کہنے کی گنجائش کہ فلاں جگہ اتفاق دخول وہاں جانے سے ہوانہ جاتا نہ ہوتا، اور جانا قصداً تھا تو ممکن الاحتراز ہُوا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:04 شوال المکرم 1441 ھ/27 مئی 2020 ء