نہر سے نکالی گئی پائپ لائن سے محروم کرنا
    تاریخ: 9 مارچ، 2026
    مشاہدات: 1
    حوالہ: 998

    سوال

    ایک بستی کے تمام مکینوں نے مل کر مشترکہ طور پر غیر مملوکہ نہر کے پانی سے بستی کے لیے پائپ لائن ڈالی ۔بعد ازاں اس بستی میں تین سے چار گھروں کا مزید اضافہ ہوا اور ان کو پانی کی ضرورت پیش آئی تو بستی کے افراد اس پائپ لائن سے ان گھروں میں پانی دینے پر راضی ہیں سوائے ایک شخص کے جو بظاہر حاجی نمازی ہےاور اثر و رسوخ رکھتا ہے لیکن وہ بستی والوں پر دباؤ ڈال رہا ہےکہ ان کے گھروں میں پانی نہیں دینا ۔

    از روئے شرع ایسے شخص کا کیا حکم ہے

    کیا ایسے شخص کو ان گھروں کا پانی روکنے کی اجازت ہے جبکہ دیگر تمام مکین پانی دینے پر راضی ہیں ؟

    نوٹ یہ بھی مد نظر رہے کہ اس پائپ لائن سے بستی والوں کی ضرورت پورا ہونے کے بعد پانی اضافی طور پر ضائع ہوتا رہتا ہے ،لہذا قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں !

    سائل:سید محرم شاہ



    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : تمام مسلمان تین چیزوں (پانی ، گھاس اور آگ ) میں شریک ہیں ۔یعنی ان تینوں چیزوں سے انتفاع حاصل کرنا سب کا بنیادی حق ہے ۔خاص طور پر وہ پانی جو کسی کی خاص ملکیت نہیں جیسے سمندر،دریا، نہر عام کا پانی،ان سے نفع لینا سب کا بنیادی حق ہے،کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کو روک ٹوک سکے ۔پوچھی گئی صورت میں مذکور شخص کا چند نئے گھروں کو پانی سے روکنا، انہیں بنیادی ضرورت سے محروم کرنا اور ان کی حق تلفی کرنا ہے جو کہ ناجائز و حرام ہے نیز اس کے اس یہ طرزِ عمل پانی کے ضیاع اور اصراف کو بھی شامل ہے ۔لہذا اس شخص پر لازم ہے کہ یہ اپنے اس فعل سے توبہ و تائب ہو اور نئے گھروں تک پانی کی ترسیل میں رکاوٹ نہ بنے۔

    وہ پائپ لائن جو نہر سے گاؤں تک بچھائی گئی، سائل کے بیان ،اور عرف جاری سے معلوم ہوتا ہے وہ گاوں کی فلاح و بہبود کے لیے ڈالی گئی ہے لہذا جو بھی نیا گھر گاوں میں بنے گا وہ اس پائپ لائن سے پانی حاصل کرسکتا ہےمشترکہ طور پر وقف کرنے کے بعد بلا شرط ِ واقف ،اب ترمیم کرنے کا بھی اختیار نہیں ۔

    اگر بالفرض پائپ لائن مشترکہ طور پر ذاتی استعمال کے لیے لگائی گئی یوں کہ فلاح ِعام اوروقف کی نیت نہ تھی تو اس صورت میں چونکہ بقیہ سب افرادنئے گھروں کو لائن سے پانی کی اجازت دے چکے سوائے ایک شخص کےتو اس کے ممکنہ دو حل ہیں :

    1:۔ اس شخص نے جتنے پیسے دیے ،ان روپوں کو، اس کے اورنئے چار گھروں پر تقسیم کر دیا جائے مثلاً فرض کریں اس نے ایک لاکھ روپے لگائے تو اسے پانچ گھروں پر تقسیم کر دیں لہذا ہر نیا گھر بیس بیس ہزار اسے دے کر پائپ لائن میں شامل ہو جائے۔

    2:۔ اپنے حصے کے مطابق ،ان چار گھروں سےکرایہ وصول کر لے ۔

    اگر یہ شخص کسی بات پر بھی راضی نہیں ہوتا تو نئے گھر زور زبردستی سے بھی بنیادی حق لینے کے مجاز ہیں ،اس شخص کی قطعاً کوئی پرواہ نہ کریں ۔

    عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي ﷺ قال: ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة ولا ينظر إليهم: رجل حلف على سلعة لقد أعطى بها أكثر مما أعطى وهو كاذب، ورجل حلف على يمين كاذبة بعد العصر ليقتطع بها مال رجل مسلم، ورجل منع فضل ماء، فيقول الله: اليوم أمنعك فضلي كما منعت فضل ما لم تعمل يداك.ترجمہ: ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''تین شخص ہیں کہ قیامت کے دن اﷲتعالیٰ ان سے نہ کلام کرے گا نہ اُن کی طرف نظر فرمائیگا۔ ایک وہ شخص جس نے کسی بیچنے کی چیزکے متعلق یہ قسم کھائی کہ جو کچھ اس کے دام(1)مل رہے ہیں اس سے زیادہ ملتے تھے(اور نہیں بیچا)حالانکہ یہ اپنی قسم میں جھوٹا ہے دوسرا وہ شخص کہ عصر کے بعد جھوٹی قسم کھائی تاکہ کسی مردمسلم کا مال لے لے اور تیسرا وہ شخص جس نے بچے ہوئے پانی کو روکا، اﷲتعالیٰ فرمائے گا آج میں اپنا فضل تجھ سے روکتا ہوں جس طرح تونے بچے ہوئے پانی کو روکا جس کو تیرے ہاتھوں نے نہیں بنایا تھا۔(صحیح البخاري''،کتاب المساقاۃ،باب من رأی أن صاحب الحوض...إلخ،الحدیث:۲۳۶۹)

    صحیح بخاری ومسلم میں ہے:عن أبي هريرة رضي الله عنه: أن رسول الله ﷺ قال: «لا تمنعوا فضل الماء لتمنعوا به فضل الكلإ. ترجمہ :ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''بچے ہوئے پانی سے منع نہ کرو کہ اس کی وجہ سے بچی ہوئی گھاس کو منع کروگے۔ (صحیح البخاري''،کتاب المساقاۃ،باب من قال إن صاحب الماء أحق... إلخ،الحدیث:۲۳۵۴)

    حضرت ابن عباس سے مروی ہے :عن ابن عباس، قال: قال رسول الله ﷺ: «المسلمون شركاء في ثلاث: في الماء والكلأ والنار۔ترجمہ:ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا : ''تمام مسلمان تین چیزوں میں شریک ہیں پانی اور گھاس اور آگ۔(سنن ابن ماجۃ''،کتاب الرھون،باب المسلمون شرکاء في ثلاث،الحدیث: ۲۴۷۲)

    ہدایہ میں ہے:اعلم أن المياه أنواع، منها: ماء البحار، ولكل واحد من الناس فيها حق الشفة وسقي الأرض، حتى إن من أراد أن يكري نهرا منها إلى أرضه لم يمنع من ذلك، والانتفاع بماء البحر كالانتفاع بالشمس والقمر والهواء، فلا يمنع من الانتفاع به على أي وجه شاء. والثاني: ماء الأودية العظام كجيحون، وسيحون، ودجلة، والفرات للناس فيه حق الشفة على الإطلاق، وحق سقي الأراضي، فإن أحيا واحد أرضا ميتة وكرى منها نهرا ليسقيها إن كان لا يضر بالعامة، ولا يكون النهر في ملك أحد له ذلك؛ لأنها مباحة في الأصل إذ قهر الماء يدفع قهر غيره. وإن كان يضر بالعامة، فليس له ذلك؛ لأن دفع الضرر عنهم واجب، وذلك في أن يميل الماء إلى هذا الجانب إذا انكسرت ضفته فيغرق القرى والأراضي، وعلى هذا نصب الرحى عليه " لأن شق النهر للرحى كشقه للسقي به ". والثالث: إذا دخل الماء في المقاسم فحق الشفة ثابت،والأصل فيه قوله - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ -: «الناس شركاء في ثلاث: الماء والكلأ والنار» . وأنه ينتظم الشرب، والشرب خص منه الأول، وبقي الثاني وهو الشفة، ولأن البئر ونحوها ما وضع للاحتراز، ولا يملك المباح بدونه كالظبي إذا تكنس في أرضه، ولأن في إبقاء الشفة ضرورة؛ لأن الإنسان لا يمكنه استصحاب الماء إلى كل مكان وهو محتاج إليه لنفسه وظهره، فلو منع عنه أفضى إلى حرج عظيم،، وإن أراد رجل أن يسقي بذلك أرضا أحياها كان لأهل النهر أن يمنعوه عنه أضر بهم أو لم يضر؛ لأنه حق خاص لهم ولا ضرورة، ولأنا لو أبحنا ذلك لانقطعت منفعة الشرب.ترجمہ: جان لو کہ پانی کی کئی قسمیں ہیں:اوّل: سمندروں کا پانی سمندر کے پانی میں ہر شخص کو پینے اور اپنی زمین کو سیراب کرنے کا حق حاصل ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی شخص سمندر سے اپنی زمین تک نہر نکالنا چاہے تو اسے روکا نہیں جائے گا۔ سمندر کے پانی سے فائدہ اٹھانا سورج، چاند اور ہوا سے فائدہ اٹھانے کی طرح ہے؛ یعنی یہ سب کے لیے عام نعمت ہے، جس طرح چاہے اس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، کسی کو منع کرنے کا حق نہیں۔

    دوم: بڑے دریاؤں کا پانی جیسے جیحون، سیحون، دجلہ اور فرات۔ان دریاؤں میں بھی تمام لوگوں کو بلا قید پینے کا حق حاصل ہے اور زمینوں کو سیراب کرنے کا بھی حق ہے۔ اگر کوئی شخص مردہ (بنجر) زمین کو آباد کرے اور اسے سیراب کرنے کے لیے دریا سے نہر نکالے، بشرطیکہ اس سے عوام کو نقصان نہ پہنچتا ہو اور وہ نہر کسی کی ذاتی ملکیت میں نہ ہو، تو اسے ایسا کرنے کی اجازت ہے؛ کیونکہ اصل کے اعتبار سے یہ پانی سب کے لیے مباح ہے، اور پانی کی روانی کسی دوسرے کے دعوے کو خود بخود زائل کر دیتی ہے۔البتہ اگر اس کے اس عمل سے عام لوگوں کو نقصان پہنچتا ہو تو اسے اس کی اجازت نہیں ہوگی، کیونکہ لوگوں کو نقصان سے بچانا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر اگر کنارے کے ٹوٹنے سے پانی کا رخ بدل جائے اور دیہات اور کھیت ڈوب جائیں تو یہ جائز نہیں۔ اسی حکم میں دریا پر آبی چکی نصب کرنا بھی داخل ہے، کیونکہ چکی کے لیے نہر نکالنا بھی کھیتی کے لیے نہر نکالنے ہی کی طرح ہے۔

    سوم: جب پانی باقاعدہ تقسیم شدہ نہروں میں داخل ہو جائےتو اس میں پینے کا حق برقرار رہتا ہے۔ اس کی بنیاد نبی کریم ﷺ کے اس فرمان پر ہے کہ:“لوگ تین چیزوں میں شریک ہیں: پانی، گھاس اور آگ۔”یہ حدیث عام استعمال کو بھی شامل ہے، لیکن تقسیم کے بعد سیرابی کا حق مخصوص ہو جاتا ہے اور صرف پینے کا حق باقی رہتا ہے۔ نیز کنواں وغیرہ اس لیے بنائے جاتے ہیں کہ پانی محفوظ رہے، اور کوئی مباح چیز صرف اس بنا پر کسی کی ملکیت نہیں بن جاتی کہ وہ اس کی زمین میں آ جائے، جیسے کوئی ہرن کسی کی زمین میں گھس جائے تو وہ محض اس وجہ سے اس کا مالک نہیں بن جاتا۔پینے کا حق باقی رکھنے میں سخت ضرورت ہے، کیونکہ انسان ہر وقت اپنے ساتھ پانی نہیں لے جا سکتا، حالانکہ اسے خود بھی پانی کی حاجت ہوتی ہے اور اپنے جانوروں کے لیے بھی۔ اگر اسے پانی لینے سے روک دیا جائے تو بڑی تنگی اور مشقت پیش آئے گی۔البتہ اگر کوئی شخص اسی تقسیم شدہ پانی سے اپنی نئی آباد کردہ زمین کو سیراب کرنا چاہے تو اہلِ نہر کو اختیار ہے کہ اسے روک دیں، خواہ اس سے انہیں نقصان ہو یا نہ ہو؛ کیونکہ یہ ان کا خصوصی حق ہے اور اس صورت میں کوئی ناگزیر ضرورت نہیں۔ اگر اسے اجازت دے دی جائے تو پینے کے حق کا اصل مقصد ہی متاثر ہو جائے گا۔۔(الھدایۃ مع فتح القدیر ،جلد 10،صفحہ 94 تا 95)

    مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : پانی کی چار قسمیں ہیں، اوّل سمندر کا پانی اس سے ہر شخص نفع اُٹھا سکتا ہے خود پئے جانوروں کو پلائے کھیت کی آبپاشی کرے اس میں نہر نکال کر اپنے کھیتوں کو لیجائے جس طرح چاہے کام میں لائے کوئی منع نہیں کرسکتا، دوم بڑے دریا کا پانی جیسے سیحون، جیحون،دجلہ،فرات، نیل یا ہندوستان میں گنگا،گھاگرا اس کو ہر شخص پی سکتا ہے اپنے جانوروں کو پلاسکتا ہے مگر زمین کو سیراب کرنے اور اُس سے نہر نکالنے میں یہ شرط ہے کہ عام لوگوں کو ضررنہ پہنچے، سوم وہ ندی نالے جو کسی خاص جماعت کی مِلک ہوں پینے پلانے کی اُس میں بھی اِجازت ہے مگر دوسرے لوگ اپنے کھیت کی اس سے آبپاشی نہیں کرسکتے، چوتھے وہ پانی جس کو گھڑوں ،مٹکوں یا برتنوں میں محفوظ کردیا گیا ہو اُس کو بغیر اجازت مالک کوئی شخص صَرف میں نہیں لاسکتا اور اس پانی کو اس کا مالک بیع بھی کرسکتا ہے۔ (بہار شریعت ،حصہ 17،صفحہ 667،مکتبۃ المدینہ )

    فتاوی قاضی خان میں ہے:

    وإن أراد قوم ليس لهم شرب من هذا النهر أن يسقوا دوابهم من هذا النهر قالوا إن كان الماء لا ينقطع بسقي الدواب ولا يفنى ليس لأهل النهر أن يمنعوهم وإن كان ينقطع الماء بسقيهم بأن كان الإبل كثيراً كان لهم حق المنع وقال بعضهم إن كان ينكسر ضفة النهر ويخرب بالسقي كان لهم حقا لمنع وإلا فلا۔ترجمہ: اگر کچھ لوگ ایسے ہوں جن کا اس نہر میں آبپاشی (شِرب) کا حق نہیں ہے اور وہ اپنی جانوروں کو اس نہر سے پانی پلانا چاہیں، تو فقہاء نے کہا:اگر جانوروں کو پانی پلانے سے نہر کا پانی ختم نہیں ہوتا اور اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، تو اہلِ نہر کو انہیں روکنے کا حق نہیں ہوگا۔البتہ اگر ان کے جانوروں کو پانی پلانے سے پانی کم ہو جاتا ہو یا ختم ہونے کا اندیشہ ہو مثلاً اونٹوں کی تعداد بہت زیادہ ہو تو ایسی صورت میں اہلِ نہر کو انہیں منع کرنے کا حق ہوگا۔اور بعض فقہاء نے یہ تفصیل بیان کی ہے کہ اگر جانوروں کو پانی پلانے سے نہر کا کنارہ ٹوٹنے یا نہر کے خراب ہونے کا اندیشہ ہو تو اہلِ نہر کو منع کرنے کا حق ہے، ورنہ نہیں۔ ( فتاوى قاضيخان ،کتاب الشرب، فصل فی الانھار،3/104 )

    فتاوی ہندیہ میں ہے:

    ولو أراد رجل أجنبي أن يأخذ من النهر الخاص أو من حوض رجل أو من بئر رجل ماء بالجرة للوضوء أو لغسل الثياب هل له ذلك؟ ذكر الطحاوي أنه له ذلك وعليه أكثر المشايخ كذا في الذخيرة.ترجمہ اگر کوئی اجنبی شخص کسی کی ذاتی نہر، یا کسی کے حوض، یا کسی کے کنویں سے گھڑے کے ذریعے وضو کرنے یا کپڑے دھونے کے لیے پانی لینا چاہے، تو کیا اسے اس کی اجازت ہے؟امام طحاوی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ اسے ایسا کرنے کی اجازت ہے، اور اکثر مشایخ کا بھی یہی موقف ہے۔اسی طرح ذخیرہ میں ہے۔(الفتاوى الهندية ،كتاب الشرب ،الباب الأول في تفسير الشرب، 5/ 391، دارالفکر)

    فتاوی ہندیہ میں ہی ہے :

    وكذلك القنطرة يتخذها الرجل للمسلمين ويتطرقون فيها ولا يكون بناؤها ميراثا للورثة وقد صار وقفا فقد خص بناء القنطرة بإبطال الميراث فيها، كذا في الذخيرة۔ترجمہ: اسی طرح اگر کوئی شخص مسلمانوں کے عام استعمال کے لیے پل (قنطرہ) بنائے اور لوگ اس پر آمد و رفت کریں، تو اس کی یہ تعمیر اس کے ورثاء کے لیے میراث نہیں بنتی؛ کیونکہ وہ وقف ہو چکی ہوتی ہے۔لہٰذا پل کی تعمیر کو خاص طور پر اس اعتبار سے بیان کیا گیا ہے کہ اس میں میراث جاری نہیں ہوتی۔ اسی طرح "الذخیرہ" میں مذکور ہے۔(الفتاوى الهندية ،كتاب الوقف ، الباب الثاني عشر في الرباطات ،2/468، دارالفکر)

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:18رجب 1447ھ/08جنوری2026ھ