ملکیت، تحفہ، وراثت اور تبرع کے شرعی اصول
    تاریخ: 9 مارچ، 2026
    مشاہدات: 11
    حوالہ: 992

    سوال

    میرا نام سید محمد فیصل ہے۔ مجھے اپنے والدِ مرحوم کی جائیداد کی شرعی تقسیم کے بارے میں رہنمائی درکار ہے۔ میرے والد کا انتقال سن 2008 میں ہوا۔والد نے اپنی زندگی میں ایک گھر 1999 میں خریدا اور ’’کاغذی طور پر‘‘ اپنی اہلیہ (ہماری والدہ) کے نام کر دیا، مگر والد خود اسی گھر میں رہتے رہے،گھر کا قبضہ والد کے پاس ہی تھا،والدہ کو بطور مالک مکمل اختیار نہیں دیا گیا۔ہم تمام بچے والد کے ساتھ اسی گھر میں رہتے رہے اور آج بھی وہیں رہائش ہے۔مزیدیہ کہ والد نے اپنی زندگی میں جو کچھ خریدا وہ والد کے اپنے پیسوں سے خریدا گیا تھا۔

    والد کے انتقال کے بعد ایک دکان اور ایک فلیٹ میں نے (محمد فیصل نے) اپنی والدہ کے نام کروائے، مگر وہ چیزیں بھی والد کے چھوڑے ہوئے پیسوں سے خریدی گئی تھیں،یعنی وہ بھی والد ہی کے مال سے تھیں، صرف انتقال کے بعد ہم نے والدہ کے نام کر دیں۔

    مجموعی جائیداد: 2 فلیٹ، 3 دکانیں، 1 گھر (جو والد نے 1999 میں والدہ کے نام کیا تھا)۔ کل مالیت اندازاً 6 سے 7 کروڑ روپے۔

    ورثاء: والدہ، ایک بیٹا (محمد فیصل) اور دو بیٹیاں ۔

    اب والدہ کہتی ہیں: ’’گھر میرے نام ہے، یہ میرا ہے‘‘ جبکہ گھر کا قبضہ والد کے پاس تھا اور انہوں نے ہبہ مکمل نہیں کیا۔ دیگر دکانیں اور فلیٹ بھی والد کے پیسوں سے تھے۔ کیا یہ تمام جائیداد والد کا ترکہ شمار ہوگی؟ یا والدہ اس کی مکمل مالک بن گئی تھیں؟ شرعی تقسیم کیا ہے؟

    نیز والد نے اپنی زندگی میں ہمارے سامنے یہ تقسیم بتائی تھی کہ کلفٹن والا فلیٹ بیٹے فیصل کا، میٹھا در والا پرانا فلیٹ بڑی بہن کا، ساڑھے 14 لاکھ والا نیا فلیٹ ،چھوٹی بہن کا۔لیکن والدہ اور بہنیں اب اس وصیت کو نہیں مان رہیں۔اب والدہ اور بہنیں یہ کہتی ہیں چونکہ کچھ املاک ہمارے نام ہیں، لہٰذا ہم اپنی مرضی سے جسے چاہیں دیں۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ املاک والد کی کمائی سے لی گئی تھیں،کچھ پر میری رقم بھی لگی ہے،والد نے زندگی میں تقسیم کی وصیت بھی کر دی تھی۔

    برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح فرمائیں:

    (۱) والد مرحوم کی اصل شرعی جائیداد کیا شمار ہوگی؟

    (۲) جن املاک پر والدہ کا صرف نام ہے مگر رقم والد کی ہے،ان کا شرعی حکم کیا ہے؟

    (۳) کیا والد کی زبانی وصیت (مخصوص تقسیم) معتبر ہے؟ اگر والدہ اور بہنیں وصیت کو نہ مانیں، تو میری شرعی ذمہ داری کیا بنتی ہے؟

    (۴) میری طرف سے 18 سال کے دوران کیے گئےگھر کے اخراجات کیا ان کا کوئی شرعی حصہ یا حق بنتا ہے؟

    سائل: سید محمد فیصل


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اولاً، محض کسی شے کی قیمت میں کسی کا رقم دینا اسے مالک نہیں بناتا، جب تک کوئی دلیلِ تملیک نہ پائی جائے۔

    ثانیاً، تحفہ میں تملیک بلا عوض ہوتی ہے ،لہذا جہاں تملیک (مالک بنانے کا) کا قصد نہ پائے وہ اصلاً تحفہ نہیں ہوتا، چہ جائے کہ اس میں ہبہ تام کی شرائط پر غور کیا جائے۔

    ثالثاً، مورِث (جس کی وراثت تقسیم ہونی ہے) کے انتقال کے بعد کل مالِ وراثت میں تمام وارثین شریک ہوتے ہیں، لہذا کسی ایک وارث (خواہ والدہ ہی کیوں نہ ہوں) کو بھی اجازت نہیں کہ دیگر وارثین کی اجازت کے بغیر اس مشترکہ مال میں تصرف کرے۔

    رابعاً، وصیت یہ ہے کہ وصیت کرتے وقت موصی (وصیت کرنے والا) اس شے کے انتقالِ ملکیت کو اپنے موت پر معلق کرتا ہے اور اس قسم کے الفاظ استعمال کرتا ہے کہ میرے بعد یہ چیز فلاں کو دے دینا۔جبکہ تحفہ میں ایسا نہیں ہوتا ہے، تحفہ میں فی الحال کسی کیلئے انتقالِ ملکیت ثابت کی جاتی ہے۔مثلاً: یہ چیز فلاں کی ہے،یا فلاں کے پاس رہے گی،یا فلاں کو دے دی جائے وغیرہا۔

    خامساً،وارث کیلئے وصیت باطل ہے کہ رب تعالی نے انہیں میراث کا حقدار بنایا ہے۔البتہ اگر دیگر عاقل بالغ ورثاء رضا مندی ظاہر کریں تو حقِ میراث کے علاوہ وصیت کے مطابق مال بھی ان ورثاء کو دیا جاسکتا ہے ، بشرطیکہ وصیت کل ترکے کے تہائی سے تجاوز نہ کرے۔اگر کوئی ایک بھی نابالغ ہو تو رضا مندی شمار نہ ہوگی۔

    سادساً، جب کوئی شخص دوسرے پر اپنا مال بغیر اس کے کہے یا بغیر کسی شدید اضطرای حالت کے لگائے، تو اسے کسی قسم کے رجوع کا حق نہیں ہوتا کہ یہ متبرع (احسان و نیکی کرنے والا) ہے اور متبرع کو رجوع نہیں۔ ہاں اگر دوسرے شخص پر مال اس کے کہنے پر لگایا یا شدید اضطراری حالت تھی تو رجوع کا اختیار اسے حاصل ہے۔

    (۱) پس اگر سائل اپنے بیان میں سچا ہے اور وہی ورثاء ہیں جو سوال میں مذکور ہیں (یعنی مرحوم کی بیوی، 1 بیٹا اور 2 بیٹیاں) تومرحوم کے کفن دفن کے اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لئے وصیت کی ہو تو اس کو مرحوم کے تہائی مال سے پورا کرنے کے بعد تمام ترکہ کے کل 32 حصے کئے جائیں گےجن میں سے مرحوم کی زوجہ کو 4 حصے، بیٹے کو 14 اور ہر ایک بیٹی کو علیحدہ 7 حصے تقسیم ہونگے۔

    ترکے کی حسابی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ ترکے کی کل رقم کو مبلغ یعنی 32 سے تقسیم Divide کریں جو جواب آئے اسے محفوظ کرلیں اور اسے ہر ایک وارث کے حصے پر ضرب Multiplyدے دیں، حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    ترکے (مال وراثت) کی تقسیم کے وقت ہر چیز کی تقسیم کا حکم الگ الگ بیان نہیں کیا جاتا، بلکہ منقولہ و غیر منقولہ ترکے (مثلاً: دکان، مکان، پلاٹ، زمین، زیورات، بینک اکاؤنٹ وغیرہ) میں سے ہر وہ چیز جو مورث(جس کی وراثت تقسیم ہورہی ہے) کی ملکیت تھی، کو فروخت کرکے یا اس کی موجودہ قیمت لگا کر مجموعی مالیت نکالی جاتی ہے اور پھر اس سب مال کی شریعت کے مطابق تقسیم ہوتی ہے۔

    (۲) جن املاک پر والدہ کا صرف نام ہے اور اس سے مقصود والد صاحب کا ملک بنانا نہیں تھا ، تو یہ مال وراثت میں تقسیم ہونگی۔

    (۳) اگر والد نے الفاظ ایسے تھے جو انتقال کے بعد مالک بنانے کی خبر دیں ، مثلاً میرے بعد یہ چیز فلاں کو دے دینا تو اگر دیگر تمام ورثاء اس پر رضامند ہوں تو وصیت تہائی مال پر معتبر ہوگی ، لیکن چونکہ یہاں وارثین منکر ہیں تو اس وصیت کا کوئی اعتبار نہ ہوگا۔

    (۴) جن افراد کیلئے آپ نے اخراجات کیئے اگر ان کے کہے بغیر کئے تو آپ کو رجوع کا اصلاً حق نہیں۔

    المسئلۃ بھذہ الصورۃ:

    8×4=32

    میــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت

    زوجہ بیٹا 2بیٹیاں

    ثمن عصـــــــــــــــــــــــبہ

    1×4 7×4=28

    4 14 7/14

    دلائل و جزئیات:

    تحفہ کی تعریف میں علامہ ابرہیم بن محمد الحلبی (المتوفی:956ھ) فرماتے ہیں: "هِيَ تمْلِيك عين بِلَا عوض". ترجمہ: یہ بلا کسی عوض کے شے کا مالک بنانا ہے۔( ملتقی الابحر، کتاب الہبۃ، ص 489، دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    وصیت سے متعلق علامہ عبد الرحمن بن محمد شيخی زاده (المتوفى: 1078ھ) فرماتے ہیں: "الْوَصِيَّة تَمْلِيكٌ مُضَافٌ إلَى مَا بَعْدَ الْمَوْتِ". ترجمہ:وصیت ایسی تملیک ہے جو موت کے بعد مضاف ہوتی ہے۔(مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر،کتاب الوصایا،ص:417،دار الکتب العلمیۃ)

    ہبہ اور وصیت کے فرق کو واضح کرتے ہوئے علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) فرماتے ہیں:"تَبَرُّعُ الْإِنْسَانِ بِمَالِهِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ مِنْ الْإِعْتَاقِ، وَالْهِبَةِ وَالْمُحَابَاةِ، وَالْكَفَالَةِ وَضَمَانِ الدَّرَكِ لَا يَكُونُ وَصِيَّةً حَقِيقَةً؛ لِأَنَّ حُكْمَ هَذِهِ التَّصَرُّفَاتِ مُنَجَّزٌ نَافِذٌ فِي الْحَالِ قَبْلَ الْمَوْتِ وَحُكْمُ الْوَصِيَّةِ يَتَأَخَّرُ إلَى مَا بَعْدَ الْمَوْتِ فَلَمْ تَكُنْ هَذِهِ التَّصَرُّفَاتُ مِنْ الْمَرِيضِ وَصِيَّةً حَقِيقَةً".ترجمہ: انسان کی مالی نیکی ایسے مرض الموت میں جس میں انتقال ہواجیسے غلام آزادکرنا،تحفہ دینا،ثمن میں رعایت کرنا،کفالت وضمان الدرک لینا، یہ حقیقت میں وصیت نہیں کیونکہ یہ تمام تصرفات متبرع کی موت سے پہلے فی الحال نافذ ہوتے ہیں جبکہ وصیت کا حکم بعد الموت مؤخر ہوتا ہے ،لہذا یہ تصرفات مرض الموت کے مریض سے وصیت قرار نہیں پائیں گے۔ (بدائع الصنائع،کتاب الوصایا،فصل فی معنی الوصیۃ،7/333،دار الکتب العلمیۃ)

    وارث کیلئے وصیت درست نہیں،حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ".ترجمہ:اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دیا ہے ، خبردار! وارث کے لئے کوئی وصیت نہیں۔(سنن ابن ماجہ، کتاب الوصایا، باب لا وصیۃ لوارث، 2/905، رقم الحدیث: 2713،دار احیاء الکتب العربی)

    وصیت کل ترکے کے ایک تہائی تک ہے،حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ".ترجمہ: وصیت مال کے تہائی حصے میں ہے اور تہائی بہت ہے۔(صحیح البخاری، کتاب الوصایا، باب الوصیۃ بالثلث، 4/3، رقم الحدیث: 2743،دار طوق النجاۃ)

    علامہ مدقق علاؤ الدین محمد بن علی الحصکفی ﷫ (المتوفی: 1088ھ) فرماتے ہیں: " (وَلَا لِوَارِثِهِ وَقَاتِلِهِ مُبَاشَرَةٌ) لَا تَسْبِيبًا كَمَا مَرَّ (إلَّا بِإِجَازَةِ وَرَثَتِهِ) لِقَوْلِهِ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ إلَّا أَنْ يُجِيزَهَا الْوَرَثَةُ» يَعْنِي عِنْدَ وُجُودِ وَارِثٍ آخَرَ كَمَا يُفِيدُهُ آخِرُ الْحَدِيثِ وَسَنُحَقِّقُهُ (وَهُمْ كِبَارٌ) عُقَلَاءُ فَلَمْ تَجُزْ إجَازَةُ صَغِيرٍ وَمَجْنُونٍ وَإِجَازَةُ الْمَرِيضِ كَابْتِدَاءِ وَصِيَّةٍ وَلَوْ أَجَازَ الْبَعْضُ وَرَّدَ الْبَعْضُ جَازَ عَلَى الْمُجِيزِ بِقَدْرِ حِصَّتِهِ".ترجمہ: (اور نہ وارث کیلئے وصیت جائز ہے اور نہ اس قاتل کیلئے جس نے براہِ راست قتل کیا ہو) نہ ہی بالواسطہ ، جیسا کہ پہلے گزرا (مگر وارثوں کی اجازت سے) کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’وارث کیلئے کوئی وصیت نہیں، الاّ یہ کہ ورثاء اجازت دیں‘‘۔ یعنی جب کوئی دوسرا وارث موجود ہو، جیسا کہ حدیث کے آخری حصے سے معلوم ہوتا ہے اور ہم اسے تفصیل سے بیان کریں گے۔ (اور وہ ورثاء بالغ ہوں) یعنی عاقل ہوں، پس نہ نابالغ کی اجازت معتبر ہے اور نہ مجنون کی۔ اور مریض کی اجازت وصیت کے آغاز کی مانند ہے۔ اور اگر بعض ورثاء اجازت دیں اور بعض رَد کر دیں، تو جس نے اجازت دی اس کے حصے کے بقدر وصیت نافذ ہو جائے گی ۔ (الدر المختار، کتاب الوصایا، 6/655-656، دار الفکر بیروت)

    متبرع رجوع کا حق نہیں رکھتا، امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں: ’’فان من انفق فی امر غیرہ بغیر امرہ ولامضطرا الیہ فانہ یعد متبرعا فلایرجع بشئ.ترجمہ:کیونکہ جس نےغیر کےمعاملہ میں اس کےحکم اورکسی مجبوری کےبغیرخرچ کیاتووہ خرچہ بطورنیکی ہوگالہذااس خرچہ کی وصولی کےلئےرجوع نہ کرسکےگا‘‘۔(فتاوی رضویہ،18/178،رضافاؤنڈیشن لاہور)

    اسی طرح علامہ محمد بن محمود اکمل الدین بابرتی (المتوفی:786ھ) فرماتے ہیں:"وَالْمُتَبَرِّعُ لَا يَرْجِعُ".ترجمہ:نیکی کرنے والا اپنے کئے پر مطالبہ نہیں کرسکتا۔ (العنايۃ شرح الهداية، کتاب الکفالة،7/189، دار الفکر)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:12 جمادی الآخری 1447ھ/4دسمبر 2025ء