عشاء کی نماز آدھی رات کے بعد پڑھنا
    تاریخ: 7 جنوری، 2026
    مشاہدات: 18
    حوالہ: 544

    سوال

    کیا نماز عشاء رات 12 بجے یا اسکے بعد پڑھنا درست ہے؟بعض لوگ کہتے ہیں کہ رات 12 بجے کے بعد عشاء کی نماز پرھنا جائز نہیں ہے ؟اسکی کیا حقیقت ہے اصلاح فرمادیجیے۔

    سائل: اسد


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر کوئی شخص اکیلے نماز پڑھے تو فجر کا وقت شروع ہونے سے پہلے جب بھی پڑھے گا اسکی نماز بالکل یعنی بغیر کسی کراہت کے درست ہے،البتہ نماز باجماعت ہو تو آدھی رات کے بعد بلاوجہ تاخیر کرنا مکروہ تنزیہی ہے کیوں کہ جب عشاء کی نماز کا وقت شروع ہو اس وقت سے لے کر رات کا ایک تہائی حصہ گزرنے تک عشاء کی نماز باجماعت پڑھنا مستحب ہے اور آدھی رات تک پڑھنا جائز ہے ، اور آدھی رات کے بعد پڑھنا مکروہ ہے ۔کیونکہ اتنی تاخیر کرنا تقلیلِ جماعت کا باعث ہے۔

    اور بعض لوگوں کا 12بجے کو ہی آدھی رات سمجھنا غلط ہے کیونکہ آدھی رات ہونے کا کوئی وقت مخصوص نہیں ہے ، وقت موسم کے اعتبار سے بدلتا رہتا ہے ، جیسا کہ آج نماز عشاء کا وقت سوا سات بجے شروع ہورہا ہے اور بعض اقات 8 بجے،بلکہ سوا آٹھ تک بھی جاتا ہے ۔لہذا اگر نصف رات 12 بجے یا اس سے پہلے ہوجاتی ہے تو جب نصف رات ہوجائے خواہ 12 بجے سے پہلے ہو۔ اس وقت کے بعد عشاء کی نماز پڑھنا مکروہ ہوگی اور اگر نصف12 بجے کے بعد ہورہی ہے تو جس وقت نصف رات ہوگی اس کے بعد نماز پرھنا مکروہ ہوگی اس سے پہلے جائز ہوگی۔طحاوی شریف میں ہے:

    فاما من حین یدخل وقتہا الی ان یمضی ثلث اللیل فافضل وقت صلیت فیہ واما من بعد ذلک الی ان یتم نصف اللیل ففی الفضل دون ذلک واما بعد نصف اللیل ففی الفضل دون کل ما قبلہ :ترجمہ: جب عشاء کا وقت شروع ہو اس وقت سے رات کا ایک تہائی گزرنے تک اس وقت میں نماز پڑھنا افضل ہے، اور اسکے بعد نصف رات تک پڑھنا فضیلت میں اس سے کم ہے۔اور نصف رات کے بعد پڑھنا سب سے کم فضیلت کا حامل ہے۔(شرح معانی الاثار کتاب الصلوۃ ص 107 مکتبہ رحمانیہ)

    ہدایہ میں ہے وتأخير العشاء إلى ما قبل ثلث الليل " لقوله عليه الصلاة والسلام " لولا أن اشق على أمتي لأخرت العشاء إلى ثلث الليل " والتأخير إلى نصف الليل مباح وإلى النصف الأخير مكروه لما فيه من تقليل الجماعة :ترجمہ: عشاء کو ایک تہائی رات تک مؤخر کرنا مستحب ہے کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں عشاء کو ایک تہائی رات تک مؤخر کرنے کا حکم دیتاہے۔اور آدھی رات تک مؤخر کرکے پڑھنا مباح (جائز) ہے ، اور آدھی رات کے بعد پڑھنا مکروہ ہے کیونکہ اسکی وجہ سے جماعت میں کمی ہوگی۔(الہدایہ شرح بدایۃ المبتدی کتاب الصلوۃ جلد 1 ص 41الشاملہ )

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب:الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:10 صفر المظفر 1440 ھ/20اکتوبر 2018 ء