دوران نماز تلاوت کی ریکارڈنگ کروانے کا حکم
    تاریخ: 7 جنوری، 2026
    مشاہدات: 7
    حوالہ: 538

    سوال

    ایک قاری صاحب نماز میں تلاوت کی ویڈیو ریکارڈنگ کرواتے ہیں ، کیونکہ ان قاری صاحب سے لوگ فرمائش کرتے ہیں کہ آپ فلاں سورت کی ریکارڈنگ کرکے ہمیں دے دیں۔اب وہ قاری صاحب اس نیت سے ریکارڈنگ کروائیں کہ لوگوں کے دلوں قرآن کی محبت پیدا ہو اور لوگ اچھے انداز میں قرآن سیکھنے کے پابند ہوں ، اور مرنے کے بعد جب تک لوگ سنتے رہیں مجھے ثواب ملتا رہے ۔ کیا قاری صاحب کا نماز کے دوران سامنے کیمرہ رکھ کر تلاوت کی ریکارڈنگ کروانا جائز ہے یا نہیں ؟

    سائل:محمد شاکر علی:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر نیتِ خیر ہو تو حرج نہیں،کہ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے،جیساکہ حدیث پاک میں ہے:عن عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہ ﷺيَقُولُ إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى۔ ترجمہ: حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کی زبان سےسنا،وہ فرمارہے تھےکہ میں نےجناب رسول اللہﷺسےسناآپﷺفرما رہےتھےکہ تمام اعمال کادارومدارنیت پرہےاورہرعمل کانتیجہ ہرانسان کواس کی نیت کےمطابق ہی ملےگا۔(صحیح بخاری، کتاب بدء الوحی ،حدیث نمبر 01)

    لیکن اگر اس عمل سے دوران نماز خشوع و خضوع میں خلل واقع ہو تو مکرہِ تنزیہی ہے۔کیونکہ نماز کے دوران ہر وہ عمل مکروہ تنزیہی ہے جو نماز میں خلل واقع کردے۔ ویڈیو کی وجہ سے زیادہ توجہ اسی طرف رہنے کی وجہ سے نماز میں خلل واقع ہونے کا اندیشہ ہے،بایں طورکہ جب اسے معلوم ہے کہ ویڈیو ریکارڈنگ ہورہی ہے،تو یہ چاہے گا کہ اچھی سی ریکارڈنگ ہو تو خود کو سنوارنے ، بنانے میں مشغول ہوجائے گا، اور قرات بھی عام حالت سے ہٹ کر کرنے کی کوشش کرے گا جسکے سبب اسکی مکمل توجہ انہی کاموں میں رہے گی،اور یہ عمل دل کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کی عظمت اور اس کے سامنے کھڑے ہونے کی ھیبت سےغافل کردے گا۔حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں ہے:و"عند حضور كل "ما يشغل البال" عن استحضار عظمة الله تعالى والقيام بحق خدمته "ويخل بالخشوع" في الصلاة بلاضرورة لإدخال النقص في المؤدي۔ترجمہ: اور ہر اس چیز کی موجودگی میں نماز مکروہ ہے جو دل کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کی عظمت اور اس کے سامنے کھڑے ہونے کی ھیبت سے مشغول کردے۔ اور بلاضرورت نماز کے دوران خشوع و خضوع میں خلل واقع کردے کیونکہ اس سے نماز کی ادائیگی میں کوتاہی ہوگی۔(حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح جلد 1ص 191)

    اسی میں ہے: و" تكره بحضرة كل ما يشغل البال كزينة و بحضرة ما يخل بالخشوع كلهو ولعب ترجمہ: اور ہر اس چیز کی موجودگی میں نماز مکروہ ہے جو دل کو ا(للہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کی عظمت) سے مشغول کردے۔جیسے زینت (یعنی بناؤ سنگھار )اور نماز کے دوران خشوع و خضوع میں خلل واقع کردے۔ جیسے کھیل کود۔(حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح جلد 1ص 360)

    صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظی لکھتے ہیں :ایسی چیز کے سامنے جو دل کو مشغول رکھے نماز مکروہ ہے، مثلاً زینت اور لہو و لعب وغیرہ۔(بہار شریعت ، حصہ سوم ،جلد 1 ص636 ، مکتبۃ المدینہ)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:12 جمادی الاول 1441 ھ/08 جنوری 2020ء