بورنگ کے پانی کاحکم
    تاریخ: 9 مارچ، 2026
    مشاہدات: 1
    حوالہ: 996

    سوال

    مفتی صاحب گزارش یہ ہے کہ زید سمیت اس کے چار بھائی ایک ٹیوب ویل والے کنویں کے دو حصوں کے مالک ہیں جبکہ تیسرا حصہ ماموں زاد بھائیوں کا ہے ۔تقسیم کے وقت ان چار وں کے حصے میں ٹوب ویل کا سامان اور ٹریکٹر کی مد میں رقم آئے ، زید کے دیگر بھائیوں نے اپنی مرضی سے ٹریکٹر کے حصے کے پیسے اٹھائے اور کچھ رقم مزید ان کے حصے میں ٹوب ویل کے سامان کا آیا، جو بعد میں ان کو مل گئے اور ٹوب ویل کے سامان میں ان کا کچھ حصہ باقی نہیں رہا سوائے کنویں کے پانی کے حصے کے ۔

    مزید یہ کہ زید اور بکر دونوں بھائی جن کے حصے میں ٹوب ویل کا سامان آیا تھا وہ استعمال میں لا کرمعمولی کھتی باڑی کرتے رہے اور اپنے تئیں جو کچھ ہو سکتا تھا کرتے رہے اور اہم بات یہ ہے پوری کلی کو پانی فراہم کرتے رہے کیونکہ پوری کلی میں اس کنویں کے علاوہ کوئی دوسرا انتظا م نہیں ہے یا پھر دوسری جگہ خواتین کے لیئے پردہ وغیرہ کے بہت سی مجبوریاں درپیش ہیں ۔اس پورے عرصے کے دوران سارے بھائی خوش تھے کہ بغیر محنت کے پینے اور دیگر تمام ضروریات کے لیئے وافر مقدار میں پانی مل رہا ہے ۔اب چند سال پہلے زید کے بھائی بکر نے کچھ پیسے جمع کر کے اور قرضہ وغیرہ لیکر سولر سسٹم کا بندو بست کیا تاکہ کچھ گزارہ ہو سکے ۔اور تقسیم کے وقت سے لیکر سولر کے لگنے تک کسی حصے دار نے کوئی دعوی نہیں کیا کہ اتنے سال ہم چلائینگے اور اتنے سال تم چلانا وغیرہ بس سب کامنشاء یہ تھا کے پانی کے لیئے سخت مشکل ہے بس کوئی بھی چلائے لوگوں اور جانوروں کو پانی دستیاب ہو سکے ۔اس دوران اس کنویں کو پانی کی سطح نیچے جانے کی وجہ سے دو دفعہ مزید بورنگ کرانے کی ضرورت پیش آئی ،تو زید اس کے بھائی بکر کے علاوہ کسی بھائی نے کوئی حصہ نہیں ملایا ۔ ہاں البتہ ماموں زاد بھائیوں نے آخری مرتبہ حصہ ملایا کیونکہ اس کے بغیر کسی کا گزارہ نہیں ہو سکتا تھا ۔

    اب زید کے دوسرے دو بھائی یہ چاہتے ہیں کہ انکو کچھ فصل کرنے دیا جائے اسی ٹوب ویل پر،جبکہ اس ٹوب ویل کے سامان میں نہ پہلے اور نہ اب انکا کوئی حصہ یا پیسہ کچھ بھی شامل نہیں ہے جبکہ زید اور بکر کا کہنا ہے کہ آپ دو نوں کا کنویں کے اندر حصہ ہے لیکن سامان میں حصہ نہیں ہے ۔لہذا آپ اپنے حصے کا پورا پانی تصرف کرنے کا اختیار رکھتے ہو مگر سامان میں حصے ملاؤ یا کچھ خرچہ کرایہ وغیرہ کی مد میں جمع کرو ۔ کیونکہ بغیر ساما ن کے تو پانی نہیں نکلتا مگر وہ بضد ہیں انکو اسی سامان کے ساتھ کھیتی وغیرہ کرنے دیا جائے ،وہ نہ ایک روپے دیں گے ،نہ ہی خرابی کی صورت میں کوئی مدد کریں گے حتی کہ ایک اسکرو لگانے پر بھی راضی نہیں ۔بس انکا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہمیں فصل کرنے دو یا کنواں بند کرو ۔

    آپ سے سوال یہ ہیں کہ زید کے برادران کا یہ مطالبہ شریعت کی رو سے درست ہے؟حالانکہ زید کے علم کے مطابق یہ شرکت شرکت ملک جبری ہے ،جس میں ہر شریک اپنے حصے پر تصر ف کا مکمل اختیار رکھتا ہے چاہے وہ اپنا حصہ استعمال کرے یا نہ کرے ،دوسرے کو یہ اختیار نہیں کہ اسکو روک ٹوک کرے دوسرا اپنے حصے پر اختیار رکھتا ہے تصرف کرے یا نہ کرے ،دوسرا یہ کہ جو دو دفعہ کنواں بورنگ کروایا اس میں زید کے بھائیوں پر خرچہ آئے گا یا نہیں ؟ازراہ کرم پوچھے گئے سوال کا شریعت مطہرہ کے مطابق جواب ارشاد فرمائے ۔

    نوٹ:مسئلہ صرف چار بھائیوں والے حصے میں ہے مامو زاد والے حصے میں نہیں،نیزکنوئیں کی زمین مشترک ہے اس لئے سب اس میں برابر کے شریک ہیں۔پہلے اوپر پانی تھا تو سب استعمال میں لاتے تھے مگر جب پانی نیچے چلا گیا تو زید اور بکر نے مل کر بورنگ وغیرہ کے خرچے سے پانی نکالا تو اب وہ دونوں باقی دو بھائیو کو کہہ رہے ہیں کہ ہم نے بورنگ کرائی ہے ،اس لئے اگر بورنگ کا خرچہ دو گے تو پانی دینگے اورنہ نہیں۔

    سائل:زید


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ سوال کے مطابق، جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کہ زید اور اس کے دیگر بھائیوں اور ماموزاد کے درمیاں سامان اپنے حصوں کے مطابق تقسیم ہوچکا ہے۔ زید اور بکر، وہ دونوں بھائی جن کے حصے میں ٹوب ویل کا سامان آیا تھا، اس سامان کے مکمل اور تنہا مالک ہیں۔ باقی دو بھائی چونکہ اپنا حصہ پہلے ہی حاصل کر چکے ہیں، اس لیے اب ٹوب ویل کے اس سامان میں ان کا کوئی حق یا حصہ باقی نہیں رہا، جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے۔

    اور شرعی اصول یہ ہے کہ نفع کا حق اسی کو حاصل ہوتا ہے جو چیز کا مالک ہو۔ لہٰذا زید اور بکر پر یہ لازم نہیں کہ وہ اپنے ذاتی سامان سے پانی نکال کر دوسرے بھائیوں کو دیں۔ اگر اس سے پہلے وہ بغیر کسی معاوضے کے پانی فراہم کرتے رہے ہیں تو یہ ان کی طرف سے احسان اور تبرع تھا، کوئی شرعی ذمہ داری نہیں تھی۔اس بنا پر اب ان دونوں بھائیوں کی طرف سےبغیر خرچہ دیئے پانی فراہم کرنے کا مطالبہ شریعت کے خلاف اور ناجائز ہے۔

    زید اور بکر کا کہنا(سامان کی قیمت متعین کر کے اس میں اپنا حصہ ادا کر کے شراکت اختیار کی جائے، یا پھر سامان کے استعمال کے عوض مناسب اور معقول اجرت طے کر لی جائے۔)بالکل درست ہے۔

    جہاں تک بورنگ (ٹیوب ویل) کا تعلق ہے تو صورتِ حال یہ ہے کہ زید اور بکر نے اپنی ذاتی رقم سے بورنگ کروائی ہے۔ لہٰذا شرعاً ان پر لازم نہیں کہ وہ اپنے دیگر دو بھائیوں کو اس بورنگ کے ذریعے حاصل ہونے والا پانی فراہم کریں، اور نہ ہی دوسرے بھائی اس کا مطالبہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے بھائی اصل کنویں اور اس میں موجود اُس پانی کے تو شریک تھے جو قدرتی طور پر اوپر موجود تھا،لیکن بورنگ کے ذریعے جو پانی نکالا گیا ہے وہ اضافی خرچہ کرکے نکالا گیا ہے۔ چونکہ اس خرچ میں دوسرے بھائیوں نے کوئی حصہ نہیں ڈالا، اس لیے وہ اس پانی میں شریک اور حقدار نہیں سمجھے جائیں گے۔البتہ اگر وہ بھی بورنگ کا پانی لینا چاہتے ہیں تو ان کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ بورنگ کے اخراجات میں اپنے حصے کے مطابق خرچہ دیں۔ خرچ میں حصہ ڈالنے کی صورت میں ہی وہ اس پانی کے حق دار ہوں گے۔

    دلائل و جزئیات:

    قرآن پاک میں ہے: وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ (188) ترجمہ: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پرجان بوجھ کر کھالو۔(البقرہ:188)

    غیر کی ملکیت میں تصرف کرنا جائز نہیں جیساکہ فتاوی ہندیہ میں مذکور ہے:و لايجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره، وكل واحد منهما كالأجنبي في نصيب صاحبه .ترجمہ: اور کسی کو اجازت نہیں کہ وہ دوسرے کے حصے میں تصرف کرے، سوائے اس کی اجازت کے؛ اور ہر ایک دوسرے کے حصے میں بالکل اجنبی کی طرح ہے۔( الفتاوى الهندية: (جلد:2،ص:302)

    شرح المجلۃ میں مذکورہے:لایجوز لأحد أن یتصرف في ملك غیره بلا إذنه أو وکالة منه أو ولایة علیه، وإن فعل کان ضامنًا .ترجمہ: کسی کو اجازت، وکالت، یا ولایت کے بغیر دوسرے کے مال میں تصرف کرنا جائز نہیں، اور اگر ایسا کرے تو وہ ذمہ دار ہوگا۔ (شرح المجلة، جلد:۱، ص:61 ، دار الکتب العلمیة، بیروت)

    متن تنویرالابصار اور شرح درمختار میں ہے : (والمحرز فی کوز و حب لاینتفع بہ الا باذن صاحبہ) لملکہ باحرازہ ۔ملخصاترجمہ:اور کوزے یا مٹکے میں جمع کردہ پانی سے اس کے مالک کی اجازت کے بغیر نفع حاصل نہیں کیا جائے گا کہ احراز کی وجہ سے وہ اس کا مالک ہوچکا ہے۔(متن تنویر الابصار و درمختار مع ردالمحتار، ج 10، ص 17، مطبوعہ کوئٹہ )

    شامی میں ہے جو شخص اپنی محنت سے پانی کنوئیں سے نکالے تو وہ اس کا مالک ہوتاہے:(قَوْلُهُ وَهَذَا) أَيْ بُطْلَانُ بَيْعِ الْكَلَإِ (قَوْلُهُ وَقِيلَ لَا) أَيْ لَا يَمْلِكُهُ، وَهُوَ اخْتِيَارُ الْقُدُورِيِّ؛ لِأَنَّ الشَّرِكَةَ ثَابِتَةٌ، وَإِنَّمَا تَنْقَطِعُ بِالْحِيَازَةِ وَسَوْقُ الْمَاءِ لَيْسَ بِحِيَازَةٍ وَعَلَى الْجَوَازِ أَكْثَرُ الْمَشَايِخِ، وَاخْتَارَهُ الشَّهِيدُ. قَالَ فِي الْفَتْحِ: وَعَلَيْهِ فَلِقَائِلٍ أَنْ يَقُولَ يَنْبَغِي أَنَّ حَافِرَ الْبِئْرِ يَمْلِكُ الْمَاءَ بِتَكَلُّفِهِ الْحَفْرَ وَالطَّيِّ لِتَحْصِيلِ الْمَاءِ كَمَا يَمْلِكُ الْكَلَأَ بِتَكَلُّفِهِ سَوْقَ الْمَاءِ إلَى الْأَرْضِ لِيَنْبُتَ فَلَهُ مَنْعُ الْمُسْتَقِي، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي أَرْضٍ مَمْلُوكَةٍ لَهُ اهـ. وَأَقُولُ: يُمْكِنُ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَهُمَا بِأَنَّ سَقْيَ الْكَلَأِ كَانَ سَبَبًا فِي إنْبَاتِهِ فَنَبَتَ، بِخِلَافِ الْمَاءِ فَإِنَّهُ مَوْجُودٌ قَبْلَ حَفْرِهِ فَلَا يَمْلِكُهُ بِالْحَ(مصنف کا قول:اور یہ) یعنی گھاس کی فروخت باطل ہے۔(مصنف کا قول:اور کہا گیا نہیں) یعنی اس پر قبضہ نہیں ہوتا، اور یہ قول قدوری کا اختیار ہے۔ کیونکہ شراکت قائم رہتی ہے، اور صرف قبضے (حیازت) سے ہی شراکت ختم ہوتی ہے، اور پانی نکالنا قبضے سے نہیں ہوتا، اور زیادہ تر علما نے اسے جائز سمجھا ہے، اور الشہید نے بھی یہی اختیار کیا۔فتح القدیر میں فرمایا گیا:اور اس پر یہ لازم ہے کہ کہا جائے کہ جو شخص کنویں کی کھدائی اور پانی نکالنے کے لیے محنت کرتا ہے، وہ پانی پر مالک ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے جو شخص گھاس کے لیے پانی زمین پر لے آتا ہے، وہ گھاس کا مالک ہوتا ہے، اور وہ جو پانی نکال رہا ہے دوسرے کو منع کر سکتا ہے، چاہے یہ زمین اس کی ذاتی نہ بھی ہو۔"اورعلامہ شامی فرماتے ہیں کہ میں کہتا ہوں:ممکن ہے کہ یہاں فرق کیا جائے:گھاس کی آبپاشی اس کی نمو (اُگنے) کا سبب بنی، اس لیے اسے اس پر حق حاصل ہے۔لیکن پانی کنویں میں پہلے سے موجود ہے، اس لیے صرف کھدائی کرنے سے اس پر حق حاصل نہیں ہوتا۔(فتاوی شامی:کتاب البیوع ،باب البیع الفاسد،مطلب فی بیع حکم الایجار البرک،جلد:5،ص:67 مطبوعہ دارالفکر بیروت)

    آگے آپ(علامہ شامی) فرماتے ہیں:مَطْلَبٌ صَاحِبُ الْبِئْرِ لَا يَمْلِكُ الْمَاءَ وَقَالَ الرَّمْلِيُّ: إنَّ صَاحِبَ الْبِئْرِ لَا يَمْلِكُ الْمَاءَ كَمَا قَدَّمَهُ فِي الْبَحْرِ فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ فِي شَرْحِ قَوْلِهِ: وَانْتِفَاخُ حَيَوَانٍ عَنْ الْوَلْوَالِجيَّةِ فَرَاجِعْهُ، وَهَذَا مَا دَامَ فِي الْبِئْرِ، أَمَّا إذَا أَخْرَجَهُ مِنْهَا بِالِاحْتِيَالِ كَمَا فِي السَّوَانِي فَلَا شَكَّ فِي مِلْكِهِ لَهُ لِحِيَازَتِهِ لَهُ فِي الْكِيزَانِ ثُمَّ صَبَّهُ فِي الْبِرَكِ بَعْدَ حِيَازَتِهِ. تَأَمَّلْ، ثُمَّ حَرَّرَ الْفَرْقَ بَيْنَ مَا فِي الْبِئْرِ وَمَا فِي الْجِبَابِ وَالصَّهَارِيجِ الْمَوْضُوعَةِ فِي الْبُيُوتِ لِجَمْعِ مَاءِ الشِّتَاءِ بِأَنَّهَا أُعِدَّتْ لِإِحْرَازِ الْمَاءِ فَيَمْلِكُ مَا فِيهَا، فَلَوْ آجَرَ الدَّارَ لَا يُبَاحُ لِلْمُسْتَأْجِرِ مَاؤُهَا إلَّا بِإِبَاحَةِ الْمُؤْجِرِ اهـ مُلَخَّصًا،ترجمہ: مالکِ کنویں خود پانی کا مالک نہیں ہوتا جب تک وہ کنویں میں موجود ہے۔ علامہ رملی بھی یہی کہتے ہیں، جیسا کہ انہوں نے کتاب الطہارة میں بیان کیا ہے۔لیکن اگر پانی کو مالک نے اپنی محنت یا کسی آلے کے ذریعے کنویں سے نکالا، جیسا کہ پانی کی گھڑیاں یا کنٹینروں میں ہوتا ہے، تو اس پر قبضہ قائم ہو جاتا ہے اور مالک اسے استعمال کر سکتا ہے۔اسی طرح وہ نے فرق واضح کیا کہ:پانی جو کنویں میں ہے، اس پر قبضہ نہیں۔لیکن جو پانی گھڑوں، صہاریج یا گھروں میں جمع کیا گیا ہے، وہ جس نے جمع کیا اس کا حق بنتا ہے۔اگر گھر کرایہ پر دیا گیا ہو، تو کرایہ دار کو پانی استعمال کرنے کا حق صرف مالک کی اجازت سے ہوگا۔(فتاوی شامی:کتاب البیوع ،باب البیع الفاسد،مطلب فی بیع حکم الایجار البرک،جلد:5،ص:67 مطبوعہ دارالفکر بیروت)

    مشترکہ کنویں کی مرمت کے سلسلے میں جب اخراجات کی تقسیم کا مسئلہ پیش آتا ہے تو اس بارے میں علامہ ابنِ عابدین شامی رحمہ اللہ "العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ" میں وضاحت فرماتے ہیں کہ: (سُئِلَ) فِي بِئْرٍ مُرْتَفَقٍ مُشْتَرَكَةٍ بَيْنَ زَيْدٍ وَعَمْرٍو يَتَقَاطَرُ مِنْهَا الْمَاءُ النَّجَسُ لِبِئْرِ مَاءٍ لِشَرِيكِهِ عَمْرٍو وَيُنَجِّسُهَا فَطَلَبَ عَمْرٌو مِنْ زَيْدٍ مَرَمَّتَهَا وَعِمَارَتَهَا مَعَهُ لِمَنْعِ الضَّرَرِ فَهَلْ يُجْبَرُ زَيْدٌ عَلَى عِمَارَتِهَا مَعَهُ؟(الْجَوَابُ): الْبِئْرُ الْمُشْتَرَكَةُ وَالدُّولَابُ وَنَحْوُهُ يُجْبَرُ الشَّرِيكُ عَلَى الْعِمَارَةِ كَمَا صَرَّحَ بِذَلِكَ فِي شَتَّى الْقَضَاءِ مِنْ الْبَحْرِ نَقْلًا عَنْ تَهْذِيبِ الْقَلَانِسِيِّ وَفِي شَرْحِ التَّنْوِيرِ عَنْ عِدَّةِ كُتُبٍ. ترجمہ:ایک مشترکہ کنواں ہے جو زید اور عمرو کے درمیان مشترک ہے۔ اس کنویں سے ناپاک پانی ٹپک کر عمرو کے دوسرے کنویں میں جا رہا ہے اور اسے ناپاک کر رہا ہے۔ عمرو نے زید سے مطالبہ کیا کہ وہ اس نقصان کو روکنے کے لیے اس کنویں کی مرمت اور تعمیر میں اس کے ساتھ شریک ہو۔ کیا زید کو اس مرمت میں شریک ہونے پر مجبور کیا جائے گا؟

    جواب دیا:مشترکہ کنواں، دولاب (پانی نکالنے کا آلہ) اور اس جیسی دیگر مشترکہ چیزوں میں شریک کو مرمت اور تعمیر پر مجبور کیا جائے گا۔ جیسا کہ "البحر" کی کتاب القضاء کے مختلف مقامات میں "تہذیب القلانسی" کے حوالے سے اس کی صراحت موجود ہے، اور "شرح التنویر" میں بھی متعدد کتب کے حوالے سے یہی بات ذکر کی گئی ہے۔(العقود الدریہ فی تنقح الفتاوی الحامدیہ:کتاب الشرکۃ ،جلد:1،ص:97مطبوعہ دار المعرفۃ)

    علامہ محقق ابن عابدین الشامی علیہ الرحمۃ مذکورہ عبارت کے تحت ارشادفرماتے ہیں:مثلہ المحرز فی الصھاریج التی توضع لاحراز الماء فی الدور کما حررہ الرملی فی فتاواہ و حاشیتہ علی البحر و افتی بہ مراراً وقال :ان الاصل قصد الاحراز و عدمہ ومما صرحوا بہ لو وضع رجل طستاً علی سطح فاجتمع فیہ ماء المطر فرفعہ آخر:ان وضعہ الاول لذلک فھو لہ و الا فللرافع۔اھ ویشھدلہ ماقدمناہ عن القہستانی ۔ قولہ (لاینتفع بہ الخ) اذ لاحق فیہ لاحد کما قدمناہ ۔قولہ (لملکہ باحرازہ) فلہ بیعہ۔ملتقی :ترجمہ:اسی کی مثل وہ پانی ہے کہ جو صہاریج کہ جو گھروں میں پانی محفوظ کرنے کے لیے رکھے جاتے ہیں ان میں جمع کیا جائے، جیسا کہ علامہ رملی نے اس کی تنقیح و تحریر اپنے فتاوی اور بحر پر تحریر کردہ اپنے حاشیہ میں فرمائی اور متعدد مقامات پر اس کا فتوی دیا اور فرمایا :اصل معیار ،احراز کا قصد ہونا یا نہ ہونا ہے اور فقہاء نےجن مسائل میں اس کی تصریح فرمائی ان میں یہ مسئلہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخص چھت پر طشت رکھے ،پھر اس میں بارش کا پانی جمع ہوجائے اور وہ پانی کوئی دوسرا اٹھالے (کہ اس میں صراحت فرمائی کہ )اگر پہلے شخص نے یہ طشت اسی کام (یعنی پانی جمع کرنے )کے لیے رکھاتھا ،تو وہ پانی اس کا ہے ورنہ اٹھانے والے کا۔ اھ اور قہستانی سے ہم نے جو پہلے ذکر کیا وہ بھی اس کا شاہد ہے۔ متن کی عبارت کہ (اس سے بغیر اجازت نفع نہیں اٹھایا جائے گا ) اس لیے ہے کہ احراز کی وجہ سے اس میں اب (مالک کے علاوہ )کسی کا کوئی حق نہیں جیسا کہ پہلے گزرا۔شرح کی عبارت(احراز کی وجہ سے وہ مالک ہوگیا ) تو اب اسے بیچنا بھی جائز ہے۔ بحوالہ ملتقی(ردالمحتار، ج 10 ، ص 17 ، مطبوعہ کوئٹہ)

    پانی کی بیع سے متعلق مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں ہے : (وما احرز من الماء بحب و کوز و نحوہ لایوخذ الا برضی صاحبہ و لہ )ای لصاحب الماء المحرز (بیعہ )ای بیع الماء لانہ ملکہ بالاحراز و صار کالصید اذا اخذہ ۔ترجمہ:اور جو پانی ،مٹکا، کوزہ وغیرہ کسی برتن میں جمع کرکے محفوظ کرلیا گیا، اسے مالک کی مرضی کے بغیر نہیں لیا جائے گا اور اس یعنی محفوظ کردہ پانی کے مالک کے لئے اسے بیچنا یعنی پانی کو بیچنا جائز ہے،کیونکہ احراز کرنے کی وجہ سے وہ اس کا مالک ہوگیا اور یہ ایسا ہے کہ جیسے شکار کہ جب کوئی اسے پکڑ لے۔(مجمع الانھر شرح ملتقی الابحر، ج 4، ص 237، مطبوعہ کوئٹہ)

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــہ:عبدالخالق بن محمد عیسیٰ

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:1447 ھ/8 فروری 2026ء